تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی

الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی

اسلام آباد( پاکستان خبر) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین اور آئینی شقوں میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا۔اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے اپنی لیگل ریفارمز کمیٹی کو فعال کر دیا ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام سمیت تمام شعبہ جات کے افسران شامل ہیں۔ کمیٹی موجودہ انتخابی قوانین اور آئینی شقوں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی عام انتخابات 2024 کے دوران سامنے آنے والی قانونی اور آئینی خامیوں کا تجزیہ کر کے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ الیکشن کمیشن انتخابی نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کے لیے قانونی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے گا۔الیکشن کمیشن آئین، الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 میں ضروری ترامیم سے متعلق تجاویز تیار کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے بعد سفارشات متعلقہ فورمز کو بھجوائی جائیں گی، جبکہ الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کا جائزہ رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نئی قانون سازی سے متعلق اپنی رائے بھی تین ماہ کے اندر پیش کرے گا۔