تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی

الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی

اسلام آباد( پاکستان خبر) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین اور آئینی شقوں میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا۔اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے اپنی لیگل ریفارمز کمیٹی کو فعال کر دیا ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام سمیت تمام شعبہ جات کے افسران شامل ہیں۔ کمیٹی موجودہ انتخابی قوانین اور آئینی شقوں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی عام انتخابات 2024 کے دوران سامنے آنے والی قانونی اور آئینی خامیوں کا تجزیہ کر کے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ الیکشن کمیشن انتخابی نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کے لیے قانونی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے گا۔الیکشن کمیشن آئین، الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 میں ضروری ترامیم سے متعلق تجاویز تیار کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے بعد سفارشات متعلقہ فورمز کو بھجوائی جائیں گی، جبکہ الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کا جائزہ رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نئی قانون سازی سے متعلق اپنی رائے بھی تین ماہ کے اندر پیش کرے گا۔