تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

افغانستان میں تعلیم پر پابندیاں، طلبہ کو مشکلات کا سامنا

افغانستان میں تعلیم پر پابندیاں، طلبہ کو مشکلات کا سامنا

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان خواتین پر پابندیوں کے بعد طالبان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی سخت اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے طالبان دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی پالیسیوں کے باعث لاکھوں افغان شہری بنیادی حقوق سے محروم ہوئے ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہے۔رپورٹ کے مطابق افغان طلبہ کو مختلف پابندیوں اور سخت ضابطوں کا سامنا ہے۔ ایک افغان طالب علم نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے داڑھی اور لباس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر طلبہ کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عالمی جریدے کے مطابق تجربہ کار اساتذہ اور پروفیسرز کے افغانستان سے چلے جانے کے باعث اعلیٰ تعلیمی اداروں کا معیار بھی متاثر ہوا ہے، جس سے ملک کے تعلیمی نظام کو مشکلات کا سامنا ہے۔بھارتی صحافی دھرم جوت کے مطابق روزگار اور تعلیم کے شعبوں میں عائد پابندیاں افغان عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک اہم تشویش کا معاملہ بن چکی ہے۔