تازہ ترین
اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل نیمل خاور کا جسم پر تبصروں کے خلاف سخت ردعمل ڈاکٹر نبیہہ علی خان کا شوہر کیلئے گانا، ویڈیو وائرل قبر پر قوالی خاندانی روایت، راحت فتح علی خان کا وضاحتی بیان رمشا خان کی بہن کا انگریزی میں ’قبول ہے‘، ویڈیو وائرل نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا ممنوع واٹس ایپ چینل ایڈمنز کیلئے اپڈیٹس شیڈول کرنے کا نیا فیچر
پاکستان خبر

آٹھ مسلم ممالک کا مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات پر اظہارِ تشویش

آٹھ مسلم ممالک کا مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات پر اظہارِ تشویش

 نیو یارک ( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات مذہبی تقدس کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا، جس میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کے اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیوں سے خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور میں اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے میں مزید کشیدگی اور تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔