تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ایلون مسک کی پیشگوئی، اے آئی انقلاب سے پیسے کی اہمیت ختم ہونے کا دعویٰ

ایلون مسک کی پیشگوئی، اے آئی انقلاب سے پیسے کی اہمیت ختم ہونے کا دعویٰ

ٹیکساس( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کے باعث آئندہ ایک دہائی میں موجودہ معاشی نظام اور روایتی پیسے کی اہمیت بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ٹیکساس گیگا فیکٹری میں دی اکنامسٹ کی ایڈیٹر زینی منٹن بیڈوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ اگلے چند برسوں میں مصنوعی ذہانت انسانی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سپر انٹیلی جنس کو انسان نما روبوٹس کے ساتھ ملا دیا جائے تو اربوں خودکار مشینیں انتہائی کم لاگت پر اشیا تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گی، جس سے ایک نئی اور وسیع معاشی دنیا وجود میں آ سکتی ہے۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جب خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور تفریح جیسی بنیادی ضروریات انتہائی کم قیمت اور آسانی سے دستیاب ہوں گی تو موجودہ مالیاتی نظام کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق انسانی محنت کی لاگت میں کمی کے باعث افراطِ زر کے بجائے قیمتوں میں مسلسل کمی یعنی ڈیفلیشن کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ کام کرنا مجبوری کے بجائے ذاتی پسند بن جائے گا۔انہوں نے پیشگوئی کی کہ 2026 کے اختتام تک روایتی پروگرامنگ کے انداز میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، جہاں ڈویلپرز خود کوڈ لکھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو ہدایات دیں گے اور اے آئی پروگرام تیار کرے گی۔ مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت پہلے ہی سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت کئی شعبوں میں نمایاں اثر ڈال رہی ہے، جبکہ ڈیٹا تجزیہ، مارکیٹنگ، انتظامی امور، صارفین کی خدمات اور قانونی شعبے بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔تاہم عالمی معاشی ماہرین نے ایلون مسک کے اس نظریے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ خودکاری کے باعث عام اشیا سستی ہو سکتی ہیں، لیکن محدود وسائل جیسے قیمتی جائیداد، بہترین تعلیمی ادارے اور اہم مقامات ہمیشہ زیادہ قدر رکھتے رہیں گے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے لیے بھی بجلی، لیتھیم، تانبا، کوبالٹ اور سلیکون جیسے قدرتی وسائل درکار ہوں گے، اس لیے پیداواری لاگت مکمل طور پر ختم ہونا ممکن نہیں۔دوسری جانب کھوسلا وینچرز کے بانی ونود کھوسلا نے خبردار کیا ہے کہ اگر دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر نظام نہ بنایا گیا تو ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب معاشی عدم مساوات کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا سکتا ہے۔خود ایلون مسک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مکمل خودکار معیشت تک پہنچنے کا درمیانی مرحلہ پیچیدہ ہوگا، جس کے دوران بڑی تعداد میں ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد روزگار کے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔