ٹیکساس( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کے باعث آئندہ ایک دہائی میں موجودہ معاشی نظام اور روایتی پیسے کی اہمیت بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ٹیکساس گیگا فیکٹری میں دی اکنامسٹ کی ایڈیٹر زینی منٹن بیڈوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ اگلے چند برسوں میں مصنوعی ذہانت انسانی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سپر انٹیلی جنس کو انسان نما روبوٹس کے ساتھ ملا دیا جائے تو اربوں خودکار مشینیں انتہائی کم لاگت پر اشیا تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گی، جس سے ایک نئی اور وسیع معاشی دنیا وجود میں آ سکتی ہے۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جب خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور تفریح جیسی بنیادی ضروریات انتہائی کم قیمت اور آسانی سے دستیاب ہوں گی تو موجودہ مالیاتی نظام کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق انسانی محنت کی لاگت میں کمی کے باعث افراطِ زر کے بجائے قیمتوں میں مسلسل کمی یعنی ڈیفلیشن کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ کام کرنا مجبوری کے بجائے ذاتی پسند بن جائے گا۔انہوں نے پیشگوئی کی کہ 2026 کے اختتام تک روایتی پروگرامنگ کے انداز میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، جہاں ڈویلپرز خود کوڈ لکھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو ہدایات دیں گے اور اے آئی پروگرام تیار کرے گی۔ مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت پہلے ہی سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت کئی شعبوں میں نمایاں اثر ڈال رہی ہے، جبکہ ڈیٹا تجزیہ، مارکیٹنگ، انتظامی امور، صارفین کی خدمات اور قانونی شعبے بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔تاہم عالمی معاشی ماہرین نے ایلون مسک کے اس نظریے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ خودکاری کے باعث عام اشیا سستی ہو سکتی ہیں، لیکن محدود وسائل جیسے قیمتی جائیداد، بہترین تعلیمی ادارے اور اہم مقامات ہمیشہ زیادہ قدر رکھتے رہیں گے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے لیے بھی بجلی، لیتھیم، تانبا، کوبالٹ اور سلیکون جیسے قدرتی وسائل درکار ہوں گے، اس لیے پیداواری لاگت مکمل طور پر ختم ہونا ممکن نہیں۔دوسری جانب کھوسلا وینچرز کے بانی ونود کھوسلا نے خبردار کیا ہے کہ اگر دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر نظام نہ بنایا گیا تو ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب معاشی عدم مساوات کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا سکتا ہے۔خود ایلون مسک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مکمل خودکار معیشت تک پہنچنے کا درمیانی مرحلہ پیچیدہ ہوگا، جس کے دوران بڑی تعداد میں ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد روزگار کے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔
ایلون مسک کی پیشگوئی، اے آئی انقلاب سے پیسے کی اہمیت ختم ہونے کا دعویٰ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی