نیو یارک( ویب ڈیسک)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت میں جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران تقریباً 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی دولت میں روزانہ اوسطاً تقریباً 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔مالیاتی تحقیقاتی ادارے بیسٹ بروکرز کے تجزیے میں فوربز کی حقیقی وقت میں جاری ہونے والی ارب پتی فہرست سے مختلف اوقات میں حاصل کیے گئے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک سال کے وقفے سے ریکارڈ کیا گیا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق مسک کی دولت میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ 12 جون کو اسپیس ایکس کے حصص کی ابتدائی عوامی پیشکش تھی۔ حصص کی قدر بڑھنے سے ان کی مجموعی دولت عارضی طور پر ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئی اور وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے۔بعدازاں اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں نمایاں کمی کے باعث مسک کی دولت بھی چند ہفتوں میں بڑی حد تک کم ہوگئی۔اگست 2026 کے آغاز میں مختلف مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق ایلون مسک کے مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 675 سے 780 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔ بلوم برگ ارب پتی اشاریے کے مطابق ان کی دولت تقریباً 777 ارب ڈالر جبکہ فوربز کے اندازے کے مطابق تقریباً 744 ارب ڈالر ہے۔اس کے باوجود ایلون مسک بدستور دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور دولت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر موجود امیر ترین فرد سے ان کا فرق خاصا نمایاں ہے۔