تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

ایپسٹین تنازع، سپر ماڈل کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

ایپسٹین تنازع، سپر ماڈل کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

وا شنگٹن( شو بز ڈیسک)امریکی سپر ماڈل جیجی حدید نے جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات میں اپنا نام آنے پر وضاحت دیتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔انہوں نے اس معاملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ جیجی حدید نے واضح کیا کہ جس شخص سے ان کی کبھی ملاقات تک نہیں ہوئی، اس کی جانب سے ان کا نام استعمال کیا جانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کی ایک پرانی ای میل میں جیفری ایپسٹین اور ایک نامعلوم فرد کے درمیان گفتگو کے دوران جیجی حدید اور ان کی بہن بیلا حدید کا ذکر سامنے آیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے جیجی حدید نے کہا کہ اس ای میل کے وقت ان کی عمر تقریباً بیس سے اکیس سال کے درمیان تھی اور ان کا ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے میں اصل متاثرین سے توجہ ہٹانا نہیں چاہتیں، تاہم اپنے بارے میں پھیلنے والی غلط فہمی کو دور کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین کو دو ہزار انیس میں سنگین جرائم کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں وہ جیل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر مسلسل زیر بحث ہے۔