تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

جنوبی لبنان میں کشیدگی میں اضافہ، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

جنوبی لبنان میں کشیدگی میں اضافہ، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

بیروت( مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث نبطیہ اور صور جیسے اہم شہروں کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حملوں کے پھیلاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صور شہر کی آبادی 80 ہزار سے زائد ہے جبکہ نبطیہ میں بھی بڑی تعداد میں شہری آباد ہیں، جو اب اپنی حفاظت کے لیے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔مقامی افراد دریائے لیطانی کے شمال میں واقع نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس کے باعث انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر کی ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی شدید انتظامی چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں بے گھر افراد کو سہولیات فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔لبنان کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی کمزور حالت میں تھا، جس کے باعث موجودہ بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ حکومتی سطح پر صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ تنازع کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 412 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔