تازہ ترین
صدر مملکت اور وزیر اعظم کا کیپٹن محمد سرور شہید کے 78 ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کوٹلی میں انتخابی خلاف ورزی، دو پریزائیڈنگ افسران گرفتار فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گرد کے سنسنی خیز انکشافات رہائی تحریک پر سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ملائیشیا کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف برقرار یائر گولن کی نیتن یاہو پر تنقید، فوجیوں کو خطرات کا ذمہ دار قرار دے دیا بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات پنجاب میں گندم خریداری نظام ناکام، نیا ماڈل متعارف کرانے کی تیاری اسٹیٹ بینک کا اہم اجلاس، شرح سود کے تعین کا فیصلہ آج ہوگا پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے تک اضافہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ پاکستان کی محتاط بیٹنگ، ویسٹ انڈیز کے خلاف پوزیشن مضبوط پاکستان، جنوبی کوریا ہاکی ٹیسٹ سیریز کا شیڈول جاری ابھیشیک شرما کی بیٹنگ ناکام، بولنگ میں شاندار کارکردگی پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم عمان ٹیسٹ سیریز کیلئے روانہ
پاکستان خبر

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس (GSP+) ترجیحی تجارتی اسکیم پر جاری جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے متوازن مگر محتاط مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق اور قانون سازی کے بعض شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا ہے، تاہم سیاسی حقوق، عدلیہ کی آزادی، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی اور اظہارِ رائے سے متعلق اہم خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔یورپی یونین کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان سے جی ایس پی پلس سہولت ختم کرنے کی سفارش نہیں ہے، تاہم ملک کی مجموعی کارکردگی کو مکمل طور پر تسلی بخش بھی قرار نہیں دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق کے اداروں کو مضبوط بنانے، قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام، سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے، پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی برقرار رکھنے، انسدادِ تشدد قانون پر عملدرآمد اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں۔دوسری جانب یورپی یونین نے سیاسی آزادیوں، عدلیہ کی خودمختاری، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی، توہینِ مذہب، انسدادِ دہشتگردی اور سائبر کرائم قوانین کے استعمال سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کے ساتھ ساتھ قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یکم جنوری 2027 سے یورپی یونین کے نئے جی ایس پی ضوابط نافذ ہوں گے، جن میں پائیداری اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق مزید سخت تقاضے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ صرف 2024 کے دوران پاکستان نے اس سہولت کے تحت تقریباً 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں، جبکہ ٹیرف رعایت کا تخمینہ 732 ملین یورو لگایا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جی ایس پی پلس کو مستقل سہولت کے بجائے ایک عبوری انتظام سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ رعایت مشروط اور یکطرفہ نوعیت کی ہے جسے یورپی یونین کسی بھی وقت معطل یا محدود کر سکتی ہے۔ نئی جی ایس پی پلس اسکیم میں شرائط پر سختی اور مؤثر عملدرآمد کو مزید اہمیت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی تجارتی پالیسی میں اصلاحات، ٹیرف میں کمی اور معیشت کو زیادہ مسابقتی بنانے کے ساتھ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جامع آزاد تجارتی معاہدوں کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے، تاکہ ملکی برآمدات کو زیادہ پائیدار اور متنوع بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔