اسلام آباد( کامرس ڈیسک) یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس (GSP+) ترجیحی تجارتی اسکیم پر جاری جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے متوازن مگر محتاط مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق اور قانون سازی کے بعض شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا ہے، تاہم سیاسی حقوق، عدلیہ کی آزادی، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی اور اظہارِ رائے سے متعلق اہم خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔یورپی یونین کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان سے جی ایس پی پلس سہولت ختم کرنے کی سفارش نہیں ہے، تاہم ملک کی مجموعی کارکردگی کو مکمل طور پر تسلی بخش بھی قرار نہیں دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق کے اداروں کو مضبوط بنانے، قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام، سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے، پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی برقرار رکھنے، انسدادِ تشدد قانون پر عملدرآمد اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں۔دوسری جانب یورپی یونین نے سیاسی آزادیوں، عدلیہ کی خودمختاری، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی، توہینِ مذہب، انسدادِ دہشتگردی اور سائبر کرائم قوانین کے استعمال سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کے ساتھ ساتھ قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یکم جنوری 2027 سے یورپی یونین کے نئے جی ایس پی ضوابط نافذ ہوں گے، جن میں پائیداری اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق مزید سخت تقاضے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ صرف 2024 کے دوران پاکستان نے اس سہولت کے تحت تقریباً 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں، جبکہ ٹیرف رعایت کا تخمینہ 732 ملین یورو لگایا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جی ایس پی پلس کو مستقل سہولت کے بجائے ایک عبوری انتظام سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ رعایت مشروط اور یکطرفہ نوعیت کی ہے جسے یورپی یونین کسی بھی وقت معطل یا محدود کر سکتی ہے۔ نئی جی ایس پی پلس اسکیم میں شرائط پر سختی اور مؤثر عملدرآمد کو مزید اہمیت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی تجارتی پالیسی میں اصلاحات، ٹیرف میں کمی اور معیشت کو زیادہ مسابقتی بنانے کے ساتھ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جامع آزاد تجارتی معاہدوں کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے، تاکہ ملکی برآمدات کو زیادہ پائیدار اور متنوع بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔