تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس (GSP+) ترجیحی تجارتی اسکیم پر جاری جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے متوازن مگر محتاط مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق اور قانون سازی کے بعض شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا ہے، تاہم سیاسی حقوق، عدلیہ کی آزادی، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی اور اظہارِ رائے سے متعلق اہم خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔یورپی یونین کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان سے جی ایس پی پلس سہولت ختم کرنے کی سفارش نہیں ہے، تاہم ملک کی مجموعی کارکردگی کو مکمل طور پر تسلی بخش بھی قرار نہیں دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق کے اداروں کو مضبوط بنانے، قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام، سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے، پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی برقرار رکھنے، انسدادِ تشدد قانون پر عملدرآمد اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں۔دوسری جانب یورپی یونین نے سیاسی آزادیوں، عدلیہ کی خودمختاری، جبری گمشدگیوں، میڈیا کی آزادی، توہینِ مذہب، انسدادِ دہشتگردی اور سائبر کرائم قوانین کے استعمال سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کے ساتھ ساتھ قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یکم جنوری 2027 سے یورپی یونین کے نئے جی ایس پی ضوابط نافذ ہوں گے، جن میں پائیداری اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق مزید سخت تقاضے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ صرف 2024 کے دوران پاکستان نے اس سہولت کے تحت تقریباً 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں، جبکہ ٹیرف رعایت کا تخمینہ 732 ملین یورو لگایا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جی ایس پی پلس کو مستقل سہولت کے بجائے ایک عبوری انتظام سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ رعایت مشروط اور یکطرفہ نوعیت کی ہے جسے یورپی یونین کسی بھی وقت معطل یا محدود کر سکتی ہے۔ نئی جی ایس پی پلس اسکیم میں شرائط پر سختی اور مؤثر عملدرآمد کو مزید اہمیت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی تجارتی پالیسی میں اصلاحات، ٹیرف میں کمی اور معیشت کو زیادہ مسابقتی بنانے کے ساتھ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جامع آزاد تجارتی معاہدوں کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے، تاکہ ملکی برآمدات کو زیادہ پائیدار اور متنوع بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔