واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق سرک اور بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ کونارک اور چابہار کے قریبی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان علاقوں میں فضائی دفاعی نظام حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال ہو گیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چابہار میں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جنوبی ساحلی شہر میں 8 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا۔امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے کے خلاف حالیہ کارروائیوں پر ایران کو جواب دہ قرار دے رہا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی حملوں میں جنوب مشرقی ایران کے ایرانشہر ہوائی اڈے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر موجود ایک فائر فائٹر جاں بحق ہوگیا۔دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مزید صورتحال خراب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے ساحلی علاقوں میں دھماکے، امریکا کا نئی کارروائیوں کا دعویٰ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں