نیویارک( ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً 4 ٹن وزنی دوسرا مرحلہ آج چاند کی سطح سے ٹکرائے گا۔ یہ راکٹ کا حصہ جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو خلا میں روانہ کرنے کے بعد مدار میں رہ گیا تھا۔ماہرین کے مطابق راکٹ کا یہ حصہ تقریباً 8690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن گڑھے سے ٹکرائے گا، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح سے گرد و غبار کا ایک بڑا بادل اٹھ سکتا ہے، تاہم یہ منظر زمین سے براہ راست آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔اسپیس ایکس نے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹکراؤ دانستہ نہیں بلکہ ایک حادثاتی عمل ہے۔ قمری مشن کے لیے اضافی طاقت درکار ہونے کے باعث راکٹ کا دوسرا مرحلہ زمین کی جانب واپس نہیں آ سکا اور خلا میں موجود رہا، بعد ازاں شمسی اثرات اور کشش ثقل کے باعث اس کا راستہ چاند کی طرف تبدیل ہو گیا۔خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے نہ زمین کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی کسی انسان کو خطرہ ہوگا، تاہم اس واقعے سے چاند کے بارے میں نئی سائنسی معلومات حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی خلا میں موجود غیر ضروری ملبے کو محفوظ طریقے سے ختم کرنے کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔