تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

فالکن 9 راکٹ کا حصہ آج چاند سے ٹکرا جائے گا

فالکن 9 راکٹ کا حصہ آج چاند سے ٹکرا جائے گا

نیویارک( ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً 4 ٹن وزنی دوسرا مرحلہ آج چاند کی سطح سے ٹکرائے گا۔ یہ راکٹ کا حصہ جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو خلا میں روانہ کرنے کے بعد مدار میں رہ گیا تھا۔ماہرین کے مطابق راکٹ کا یہ حصہ تقریباً 8690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن گڑھے سے ٹکرائے گا، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح سے گرد و غبار کا ایک بڑا بادل اٹھ سکتا ہے، تاہم یہ منظر زمین سے براہ راست آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔اسپیس ایکس نے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹکراؤ دانستہ نہیں بلکہ ایک حادثاتی عمل ہے۔ قمری مشن کے لیے اضافی طاقت درکار ہونے کے باعث راکٹ کا دوسرا مرحلہ زمین کی جانب واپس نہیں آ سکا اور خلا میں موجود رہا، بعد ازاں شمسی اثرات اور کشش ثقل کے باعث اس کا راستہ چاند کی طرف تبدیل ہو گیا۔خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے نہ زمین کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی کسی انسان کو خطرہ ہوگا، تاہم اس واقعے سے چاند کے بارے میں نئی سائنسی معلومات حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی خلا میں موجود غیر ضروری ملبے کو محفوظ طریقے سے ختم کرنے کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔