تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

فالکن 9 راکٹ کا حصہ آج چاند سے ٹکرا جائے گا

فالکن 9 راکٹ کا حصہ آج چاند سے ٹکرا جائے گا

نیویارک( ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً 4 ٹن وزنی دوسرا مرحلہ آج چاند کی سطح سے ٹکرائے گا۔ یہ راکٹ کا حصہ جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو خلا میں روانہ کرنے کے بعد مدار میں رہ گیا تھا۔ماہرین کے مطابق راکٹ کا یہ حصہ تقریباً 8690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن گڑھے سے ٹکرائے گا، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح سے گرد و غبار کا ایک بڑا بادل اٹھ سکتا ہے، تاہم یہ منظر زمین سے براہ راست آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔اسپیس ایکس نے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹکراؤ دانستہ نہیں بلکہ ایک حادثاتی عمل ہے۔ قمری مشن کے لیے اضافی طاقت درکار ہونے کے باعث راکٹ کا دوسرا مرحلہ زمین کی جانب واپس نہیں آ سکا اور خلا میں موجود رہا، بعد ازاں شمسی اثرات اور کشش ثقل کے باعث اس کا راستہ چاند کی طرف تبدیل ہو گیا۔خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے نہ زمین کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی کسی انسان کو خطرہ ہوگا، تاہم اس واقعے سے چاند کے بارے میں نئی سائنسی معلومات حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی خلا میں موجود غیر ضروری ملبے کو محفوظ طریقے سے ختم کرنے کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔