تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ایف بی آر آڈٹ رپورٹ میں 323 ارب روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایف بی آر آڈٹ رپورٹ میں 323 ارب روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے لیے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں ٹیکس وصولیوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں، کم وصولیوں اور داخلی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مختلف بے ضابطگیوں کے باعث قومی خزانے کو 323 ارب 34 کروڑ روپے کی ریکوری کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صرف 43 ارب روپے کی وصولی ہو سکی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آمدن اور اخراجات کا خطرات کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور اسلام آباد میں خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے دوران ایف بی آر کا داخلی کنٹرول نظام کمزور اور غیر مؤثر پایا گیا، جبکہ محصولات کی کم رپورٹنگ، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانوں کی کم وصولی سمیت متعدد مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق 18 فیلڈ دفاتر نے 601 کیسز میں 15 ارب 29 کروڑ روپے کا کم از کم ٹیکس وصول نہیں کیا، جبکہ 19 فیلڈ دفاتر کی جانب سے 527 کیسز میں 117 ارب 77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔اسی طرح 16 فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول اخراجات کے دعوؤں کے باعث 276 کیسز میں 24 ارب روپے کا انکم ٹیکس کم وصول کیا۔ اس کے علاوہ قابل ٹیکس آمدن کے غلط تعین، اخراجات اور ان پٹ ٹیکس کی غلط تقسیم کے باعث بھی اربوں روپے کی کم وصولی کا انکشاف ہوا۔سیلز ٹیکس کے شعبے میں بلیک لسٹ کیے گئے ٹیکس دہندگان کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث 159 کیسز میں 41 ارب 78 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ 20 فیلڈ دفاتر نے 870 کیسز میں 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی، کم قیمت ظاہر کرنے اور دیگر خامیوں کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 56 کروڑ روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔ اس کے علاوہ غیر مؤثر ٹیکس چھوٹ، تاخیر سے سامان نکالنے پر سرچارج کی عدم وصولی اور ضبط شدہ سامان کی فروخت نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف بی آر اپنے داخلی کنٹرول نظام کو مزید مضبوط بنائے، بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے، ٹیکس دہندگان کے پروفائل کو ریٹرن فائلنگ نظام سے منسلک کرے اور کم از کم ٹیکس و سپر ٹیکس کے درست تعین کے لیے خطرات کی بنیاد پر آڈٹ کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔