تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

ایف بی آر آڈٹ رپورٹ میں 323 ارب روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایف بی آر آڈٹ رپورٹ میں 323 ارب روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے لیے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں ٹیکس وصولیوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں، کم وصولیوں اور داخلی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مختلف بے ضابطگیوں کے باعث قومی خزانے کو 323 ارب 34 کروڑ روپے کی ریکوری کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صرف 43 ارب روپے کی وصولی ہو سکی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آمدن اور اخراجات کا خطرات کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور اسلام آباد میں خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے دوران ایف بی آر کا داخلی کنٹرول نظام کمزور اور غیر مؤثر پایا گیا، جبکہ محصولات کی کم رپورٹنگ، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانوں کی کم وصولی سمیت متعدد مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق 18 فیلڈ دفاتر نے 601 کیسز میں 15 ارب 29 کروڑ روپے کا کم از کم ٹیکس وصول نہیں کیا، جبکہ 19 فیلڈ دفاتر کی جانب سے 527 کیسز میں 117 ارب 77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔اسی طرح 16 فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول اخراجات کے دعوؤں کے باعث 276 کیسز میں 24 ارب روپے کا انکم ٹیکس کم وصول کیا۔ اس کے علاوہ قابل ٹیکس آمدن کے غلط تعین، اخراجات اور ان پٹ ٹیکس کی غلط تقسیم کے باعث بھی اربوں روپے کی کم وصولی کا انکشاف ہوا۔سیلز ٹیکس کے شعبے میں بلیک لسٹ کیے گئے ٹیکس دہندگان کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث 159 کیسز میں 41 ارب 78 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ 20 فیلڈ دفاتر نے 870 کیسز میں 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی، کم قیمت ظاہر کرنے اور دیگر خامیوں کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 56 کروڑ روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔ اس کے علاوہ غیر مؤثر ٹیکس چھوٹ، تاخیر سے سامان نکالنے پر سرچارج کی عدم وصولی اور ضبط شدہ سامان کی فروخت نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف بی آر اپنے داخلی کنٹرول نظام کو مزید مضبوط بنائے، بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے، ٹیکس دہندگان کے پروفائل کو ریٹرن فائلنگ نظام سے منسلک کرے اور کم از کم ٹیکس و سپر ٹیکس کے درست تعین کے لیے خطرات کی بنیاد پر آڈٹ کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔