اسلام آباد( کامرس ڈیسک) مالی سال 2025-26 کے دوران وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال کے اختتام تک تقریباً 13.003 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جبکہ آئی ایم ایف کی نظرثانی شدہ ہدف 13.979 کھرب روپے مقرر تھا۔ اس طرح تقریباً 975 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔ٹیکس حکام کے مطابق بینکاری نظام کے ذریعے 12.97 کھرب روپے وصول کیے گئے جبکہ باقی رقم کی معمولی کلیئرنس رات تک متوقع تھی۔اعداد و شمار کے مطابق مسلسل دوسرے سال ایف بی آر اپنے سالانہ ہدف سے تقریباً ایک کھرب روپے سے زائد پیچھے رہا۔ ڈالر کے لحاظ سے ایف بی آر نے تقریباً 46 ارب ڈالر کے مساوی ٹیکس جمع کیا، جبکہ ہدف 50 ارب ڈالر تھا، جس سے تقریباً 4 ارب ڈالر کا فرق ظاہر ہوا۔رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ شرح ملکی معیشت کی 14 فیصد برائے نام شرح نمو سے کم رہی۔اسی عرصے میں 588 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز بھی جاری کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 115 ارب روپے زیادہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آر تمام بڑے شعبوں کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انکم ٹیکس کی مد میں 6.6 کھرب روپے جمع ہوئے، جو ہدف سے 323 ارب روپے کم ہیں۔ سیلز ٹیکس کی وصولیاں 4.265 کھرب روپے رہیں، جو ہدف سے 494 ارب روپے کم ہیں۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 840 ارب روپے جمع ہوئے، جو ہدف سے 51 ارب روپے کم رہے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیاں 1.33 کھرب روپے رہیں اور یہ بھی ہدف سے 108 ارب روپے کم رہیں۔