اسلام آباد( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے حارث اسٹیل ملز ریفرنس ختم کرنے کے خلاف درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران بینک کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے فراڈ کر کے قرض حاصل کیا گیا، جس میں بینک آف پنجاب کے بعض افسران بھی ملوث تھے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ کیا اس وقت دستاویزات کی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی تھی؟ پہلے احتیاط نہ کرنے اور واقعہ پیش آنے کے بعد کارروائی کرنے پر عدالت نے سوالات اٹھائے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بنیادی معاملہ یہ ہے کہ کیا نیب کے ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکوائری، کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز روکنے اور ناکام امیدواروں کے پرچے دوبارہ جانچنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات بھی معطل کر دیے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بنچ نے ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس میں ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کے خلاف کسٹمز کی اپیل پر مالِ مقدمہ واپس کرنے سے متعلق حکمِ امتناع کی درخواست مسترد کر دی۔سماعت کے دوران کسٹمز کے وکیل نے بتایا کہ اسمگل شدہ ڈیزل ضبط کر کے نیلام کیا جاتا ہے، جس پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ ایک ٹینکر کا اجازت نامہ کئی ٹینکرز لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔دریں اثنا عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کی مسماری سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا تحریری حکم جاری کر دیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود میں مفادِ عامہ کے لیے کسی بھی تعمیراتی منصوبے یا سرگرمی کی منظوری کا اختیار سی ڈی اے کے پاس ہے۔آٹھ صفحات پر مشتمل حکمنامہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ مونال کیس میں عدالتی اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔عدالت نے سروس معاملات سے متعلق کراچی یونیورسٹی کی اپیل بھی منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 13 جون 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان