تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پاکستان میں پہلی بار ESG میوچل فنڈز فریم ورک متعارف، پائیدار سرمایہ کاری کی راہ ہموار

پاکستان میں پہلی بار ESG میوچل فنڈز فریم ورک متعارف، پائیدار سرمایہ کاری کی راہ ہموار

اسلام آباد( کامر س ڈیسک) پائیدار سرمایہ کاری کے شعبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک کا پہلا ESG (ماحولیاتی، سماجی اور گورننس) میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا ہے۔اس نئے فریم ورک کے تحت اثاثہ جات مینجمنٹ کمپنیاں ESG میوچل فنڈز متعارف کرا سکیں گی۔ ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام کا مقصد کمپنیوں کو بہتر ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیار اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔فریم ورک کے مطابق ESG میوچل فنڈز ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو ماحولیات، سماجی ذمہ داری اور بہتر کارپوریٹ گورننس کے اصولوں پر عمل کرتی ہیں۔ ایکویٹی ESG فنڈز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سسٹین ایبلٹی انڈیکس میں شامل کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔اسی طرح ڈیٹ ESG فنڈز گرین، سوشل اور سسٹین ایبلٹی سے منسلک قرضہ جاتی مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کریں گے۔ نئے قواعد کے تحت ESG فنڈز کے لیے لازمی ہوگا کہ ان کے کم از کم 50 فیصد اثاثے ESG معیار کے مطابق سرمایہ کاری میں رکھے جائیں۔ایس ای سی پی کے مطابق یہ فریم ورک گرین واشنگ کی روک تھام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا، اور ملک میں پائیدار مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ESG ڈسکلوژر گائیڈ لائنز، آئی ایف آر ایس سسٹین ایبلٹی اسٹینڈرڈز، ESG سسٹین پلیٹ فارم اور پاکستان گرین ٹیکسانومی بھی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔