تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

جرمن نجی کمپنی کا راکٹ یورپ سے پہلی بار مدار میں پہنچ گیا

جرمن نجی کمپنی کا راکٹ یورپ سے پہلی بار مدار میں پہنچ گیا

جرمن( ویب ڈیسک)جرمنی کی نجی خلائی کمپنی اسار ایرو اسپیس نے یورپی سرزمین سے اپنا خلائی راکٹ کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا کر تاریخ رقم کردی۔کمپنی کا اسپیکٹرم راکٹ ناروے میں واقع آندویا خلائی مرکز سے خلا کی جانب روانہ کیا گیا اور کامیابی سے مدار میں داخل ہوگیا۔جرمن کمپنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ مدار تک پہنچ چکا ہے۔ کمپنی کے مطابق یورپ سے نجی طور پر تیار کیے گئے راکٹ کی پہلی کامیاب مداری پرواز کے ذریعے تاریخ رقم ہوئی ہے۔جرمن وزارتِ تحقیق، ٹیکنالوجی اور خلائی امور نے بھی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرمنی خلائی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزارت کے مطابق یہ پیش رفت جرمنی کی جدت، تکنیکی مہارت اور خلائی شعبے میں بڑھتی ہوئی استعداد کا اہم ثبوت ہے۔اسپیکٹرم راکٹ کو خلا میں پہنچانے کی یہ دوسری کوشش تھی۔ تقریباً 18 ماہ قبل کمپنی نے پہلی مرتبہ راکٹ روانہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔اس کامیابی کے بعد جرمنی کی نجی خلائی صنعت نے یورپی خلائی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں یورپی سرزمین سے نجی راکٹوں کی پروازوں کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔