تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

گلگت بلتستان انتخابات 2026: خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گی: ذرائع

گلگت بلتستان انتخابات 2026: خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گی: ذرائع

گلگت( پاکستان خبر)گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں وہ جیت اور ہار کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔دیامر-1 کو سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق ہے۔دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہیں۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 وہ اہم حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔دوسری جانب انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے، جہاں آٹھ خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے انتخابی میدان میں حصہ لے رہی ہیں، جو انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی کرتا ہے۔