تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

حکومت نے 28 ریاستی اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کر دیا ہے: وزیر خزانہ

حکومت نے 28 ریاستی اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کر دیا ہے: وزیر خزانہ

کراچی( پاکستان خبر) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجکاری کمیشن کو مزید 28 ریاستی ادارے مختص کر دیے گئے ہیں اور حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک ہے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کا اختتام مضبوط معاشی استحکام کے ساتھ ہوا، بڑی صنعتوں کی ترقی کے باعث مجموعی قومی پیداوار کی شرح 3.7 فیصد رہی جبکہ ترسیلات زر کے باعث مالی سال 2026 میں جاری کھاتے کی صورتحال مستحکم رہی۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر تک رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات نے بھی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے اور عالمی سرمایہ کاری مارکیٹوں تک رسائی بحال ہوئی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یورو بانڈز سمیت عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی ہوئی، جبکہ پانڈا بانڈز ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئے، تاہم اس نوعیت کی دیگر بڑی مارکیٹوں تک رسائی کے عمل میں تاخیر ہوئی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں ہوئیں، جبکہ نئی نسل خصوصاً جین زی اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2025 کے سیلابوں کے دوران پاکستان نے 2022 کی طرح عالمی امداد کی اپیل نہیں کی بلکہ اپنے وسائل سے صورتحال کا مقابلہ کیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جو چھوٹے کاروباروں کے فروغ کے لیے ضروری اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو بھی بجٹ میں سہولت دی گئی جبکہ زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے خوردہ شعبے کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس نظام میں انسانی مداخلت کم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس انتظامیہ پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت حتمی ٹیکس نظام کو برقرار رکھنے کے بجائے ٹیکس نظام کو آسان اور سہل بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان جیسے بڑے آبادی والے ملک میں ہر فرد کو مناسب ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزارت بحری امور کو دیکھنا ہوگا کہ سامان کی دوبارہ ترسیل کے شعبے کو کس طرح وسعت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ آنے والی رقوم 18 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔