تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش میں اضافہ

بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش میں اضافہ

 نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں اقلیتوں کو درپیش مسائل اور مذہبی کشیدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمان اور مسیحی برادریوں کے خلاف تشدد، عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث اقلیتی برادریوں میں تحفظات بڑھ رہے ہیں۔بھارتی جریدے ہندوستان گزٹ کے مطابق مہاراشٹرا کے ضلع سانگلی کے گاؤں آرلا میں مسلمانوں کو مبینہ حملوں کے بعد معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 9 جون کو ہونے والی ایک تقریب کے بعد معاشی بائیکاٹ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بعض مقامی افراد نے مسلمانوں کے ساتھ کاروباری لین دین محدود یا ختم کردیا۔دوسری جانب دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ریاست کے وزیر خزانہ چندرشیکھر باونکولے نے اعلان کیا ہے کہ عیسائی مشنری تنظیموں کی ملکیتی تمام زمینوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل ایک مسیحی وفد نے مبینہ دھمکیوں کے بعد ممبئی پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور مساوی شہری حیثیت سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف پیش آنے والے واقعات نے بھارت کے سیکولر تشخص پر بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔