نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں اقلیتوں کو درپیش مسائل اور مذہبی کشیدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمان اور مسیحی برادریوں کے خلاف تشدد، عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث اقلیتی برادریوں میں تحفظات بڑھ رہے ہیں۔بھارتی جریدے ہندوستان گزٹ کے مطابق مہاراشٹرا کے ضلع سانگلی کے گاؤں آرلا میں مسلمانوں کو مبینہ حملوں کے بعد معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 9 جون کو ہونے والی ایک تقریب کے بعد معاشی بائیکاٹ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بعض مقامی افراد نے مسلمانوں کے ساتھ کاروباری لین دین محدود یا ختم کردیا۔دوسری جانب دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ریاست کے وزیر خزانہ چندرشیکھر باونکولے نے اعلان کیا ہے کہ عیسائی مشنری تنظیموں کی ملکیتی تمام زمینوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل ایک مسیحی وفد نے مبینہ دھمکیوں کے بعد ممبئی پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور مساوی شہری حیثیت سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف پیش آنے والے واقعات نے بھارت کے سیکولر تشخص پر بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔