تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش میں اضافہ

بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش میں اضافہ

 نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں اقلیتوں کو درپیش مسائل اور مذہبی کشیدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمان اور مسیحی برادریوں کے خلاف تشدد، عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث اقلیتی برادریوں میں تحفظات بڑھ رہے ہیں۔بھارتی جریدے ہندوستان گزٹ کے مطابق مہاراشٹرا کے ضلع سانگلی کے گاؤں آرلا میں مسلمانوں کو مبینہ حملوں کے بعد معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 9 جون کو ہونے والی ایک تقریب کے بعد معاشی بائیکاٹ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بعض مقامی افراد نے مسلمانوں کے ساتھ کاروباری لین دین محدود یا ختم کردیا۔دوسری جانب دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ریاست کے وزیر خزانہ چندرشیکھر باونکولے نے اعلان کیا ہے کہ عیسائی مشنری تنظیموں کی ملکیتی تمام زمینوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل ایک مسیحی وفد نے مبینہ دھمکیوں کے بعد ممبئی پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور مساوی شہری حیثیت سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف پیش آنے والے واقعات نے بھارت کے سیکولر تشخص پر بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔