تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

بھارت میں بے پناہ پذیرائی ملی، کئی فلموں کی پیشکشیں ٹھکرا دیں: حسن جہانگیر

بھارت میں بے پناہ پذیرائی ملی، کئی فلموں کی پیشکشیں ٹھکرا دیں: حسن جہانگیر

 لاہور( شوبز ڈیسک)پاکستان کے معروف گلوکار حسن جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ اپنے مقبول گانے "ہوا ہوا" کی غیر معمولی کامیابی کے بعد انہیں بھارت میں بھرپور محبت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔احمد علی بٹ کے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستانی میوزک انڈسٹری کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ کی کئی نامور شخصیات سے بھی ان کے خوشگوار تعلقات رہے ہیں۔پروگرام کے دوران احمد علی بٹ نے سوال کیا کہ کیا ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ ریکھا نے واقعی انہیں محبت بھرا خط لکھا تھا؟ اس پر حسن جہانگیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ محبت کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، تاہم کچھ باتیں ذاتی ہی رہنے دینا بہتر ہوتا ہے، اس لیے وہ اس معاملے پر مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔گلوکار نے بتایا کہ بھارت میں انہیں ہمیشہ عزت اور محبت ملی ہے۔ ان کے مطابق مادھوری ڈکشٹ، گووندا، شاہ رخ خان، سلمان خان اور متھن چکرورتی سمیت کئی بڑے بھارتی فنکار آج بھی ان کے اچھے دوست ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان خیرسگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔حسن جہانگیر نے اپنے فنی سفر کے ایک اہم فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارت میں مرکزی کرداروں کے لیے متعدد فلموں کی پیشکش ہوئی تھی، جن میں نیلم اور مادھوری ڈکشٹ جیسے بڑے ناموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی شامل تھا، لیکن انہوں نے تمام پیشکشیں قبول کرنے کے بجائے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا، جس پر انہیں آج بھی پشیمانی محسوس ہوتی ہے۔