تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا

پیرس/جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاطح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آسکی تو عالمی توانائی کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فاطح بیرول نے کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی محفوظ فراہمی آج بھی دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آنے والے چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات عالمی توانائی کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔فاطح بیرول کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔آئی ای اے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران میں مسلسل چھٹے روز بھی مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بندر عباس، اہواز اور ایران شہر سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔امریکا کی جانب سے ایک ایسے بحری جہاز کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے جس پر الزام تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔