پیرس/جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاطح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آسکی تو عالمی توانائی کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فاطح بیرول نے کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی محفوظ فراہمی آج بھی دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آنے والے چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات عالمی توانائی کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔فاطح بیرول کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔آئی ای اے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران میں مسلسل چھٹے روز بھی مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بندر عباس، اہواز اور ایران شہر سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔امریکا کی جانب سے ایک ایسے بحری جہاز کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے جس پر الزام تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔