تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا

پیرس/جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاطح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آسکی تو عالمی توانائی کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فاطح بیرول نے کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی محفوظ فراہمی آج بھی دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آنے والے چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات عالمی توانائی کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔فاطح بیرول کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔آئی ای اے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران میں مسلسل چھٹے روز بھی مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بندر عباس، اہواز اور ایران شہر سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔امریکا کی جانب سے ایک ایسے بحری جہاز کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے جس پر الزام تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔