تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ

حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ

صنعاء( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کر رہے تھے۔انصاراللہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی ان بحری جہازوں کے خلاف کی گئی جو خبردار کیے جانے کے باوجود اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ حوثی گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یمن پر عائد پابندیوں اور محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا۔دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کرنے والے سعودی ملکیت کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔ تاہم جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے قبل برطانوی بحری سیکیورٹی ادارے نے بھی بتایا تھا کہ سعودی ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 بحری میل دور ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔جہاز کے کپتان کے مطابق آگ میزائل حملے کے بعد لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع سامنے آئی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل حوثی تنظیم انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن پر جاری محاصرے اور صنعا ہوائی اڈے کی بندش کے جواب میں کیا گیا ہے۔حوثیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر یمن پر پابندیاں اور محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو وہ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری پابندیوں کے اعلانات سے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔