تازہ ترین
مستونگ میں امن و امان کے لیے کرفیو نافذ پاکستان اور عمان میں تجارت و تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور امریکا میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق مون سون بارشیں، پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ بھارت میں طلبہ احتجاج پھیل گیا، حکومت سے استعفوں کا مطالبہ جنسی بدسلوکی تحقیقات کے دوران بھارتی نژاد سائنسدان سالک انسٹیٹیوٹ سے فارغ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا پاکستان اور آئی ایم ایف میں اقتصادی اصلاحات پر اہم مذاکرات پاکستان اور ایران میں تجارتی مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت کراچی میں فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس کو کسٹمز پورٹ کا درجہ دے دیا گیا پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا پریکٹس میچ بغیر نتیجے کے ختم میا خلیفہ نے اسپین کی فتح پر بھاری شرط جیت لی پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2026-27 کا شیڈول جاری کر دیا گلیات ٹریل ریس، 400 سے زائد رنرز نے حصہ لیا
پاکستان خبر

حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ

حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ

صنعاء( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کر رہے تھے۔انصاراللہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی ان بحری جہازوں کے خلاف کی گئی جو خبردار کیے جانے کے باوجود اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ حوثی گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یمن پر عائد پابندیوں اور محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا۔دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کرنے والے سعودی ملکیت کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔ تاہم جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے قبل برطانوی بحری سیکیورٹی ادارے نے بھی بتایا تھا کہ سعودی ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 بحری میل دور ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔جہاز کے کپتان کے مطابق آگ میزائل حملے کے بعد لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع سامنے آئی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل حوثی تنظیم انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن پر جاری محاصرے اور صنعا ہوائی اڈے کی بندش کے جواب میں کیا گیا ہے۔حوثیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر یمن پر پابندیاں اور محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو وہ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری پابندیوں کے اعلانات سے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔