اسلام آباد( پاکستان خبر) بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کا لالچ دے کر شہریوں کو پھانسنے والے جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کے فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیرمعمولی تنخواہوں اور آسان ملازمتوں کے جھانسے میں آ کر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا جانے سے پہلے مکمل تحقیق اور احتیاط کی جائے، کیونکہ منظم جرائم پیشہ گروہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہریوں کو پہلے وزٹ ویزے پر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا بھیجا جاتا ہے، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کمبوڈیا جانے والے 3 ہزار 313 پاکستانی واپس نہیں آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ملازمتوں کے نام پر جانے والے افراد کو کمبوڈیا میں قائم سائبر فراڈ مراکز میں زبردستی کام کرنے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 13 ہزار 39 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 190 افراد واپس نہیں آئے۔ اسی طرح 2025 میں 11 ہزار 488 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 933 وطن واپس نہیں لوٹے، جبکہ 2026 میں 395 افراد کمبوڈیا گئے اور ان میں سے 189 افراد کی واپسی نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران کمبوڈیا جانے والے مجموعی پاکستانیوں میں سے تقریباً 13.29 فیصد افراد واپس نہیں آئے۔ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے لیے صرف رجسٹرڈ اور قانونی ذرائع کا انتخاب کیا جائے تاکہ انسانی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے جال سے محفوظ رہا جا سکے۔