تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ، انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک متحرک

بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ، انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک متحرک

اسلام آباد( پاکستان خبر) بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کا لالچ دے کر شہریوں کو پھانسنے والے جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کے فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیرمعمولی تنخواہوں اور آسان ملازمتوں کے جھانسے میں آ کر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا جانے سے پہلے مکمل تحقیق اور احتیاط کی جائے، کیونکہ منظم جرائم پیشہ گروہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہریوں کو پہلے وزٹ ویزے پر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا بھیجا جاتا ہے، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کمبوڈیا جانے والے 3 ہزار 313 پاکستانی واپس نہیں آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ملازمتوں کے نام پر جانے والے افراد کو کمبوڈیا میں قائم سائبر فراڈ مراکز میں زبردستی کام کرنے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 13 ہزار 39 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 190 افراد واپس نہیں آئے۔ اسی طرح 2025 میں 11 ہزار 488 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 933 وطن واپس نہیں لوٹے، جبکہ 2026 میں 395 افراد کمبوڈیا گئے اور ان میں سے 189 افراد کی واپسی نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران کمبوڈیا جانے والے مجموعی پاکستانیوں میں سے تقریباً 13.29 فیصد افراد واپس نہیں آئے۔ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے لیے صرف رجسٹرڈ اور قانونی ذرائع کا انتخاب کیا جائے تاکہ انسانی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے جال سے محفوظ رہا جا سکے۔