تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ، انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک متحرک

بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ، انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک متحرک

اسلام آباد( پاکستان خبر) بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کا لالچ دے کر شہریوں کو پھانسنے والے جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کے فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیرمعمولی تنخواہوں اور آسان ملازمتوں کے جھانسے میں آ کر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا جانے سے پہلے مکمل تحقیق اور احتیاط کی جائے، کیونکہ منظم جرائم پیشہ گروہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہریوں کو پہلے وزٹ ویزے پر تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا بھیجا جاتا ہے، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کمبوڈیا جانے والے 3 ہزار 313 پاکستانی واپس نہیں آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ملازمتوں کے نام پر جانے والے افراد کو کمبوڈیا میں قائم سائبر فراڈ مراکز میں زبردستی کام کرنے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 13 ہزار 39 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 190 افراد واپس نہیں آئے۔ اسی طرح 2025 میں 11 ہزار 488 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے ایک ہزار 933 وطن واپس نہیں لوٹے، جبکہ 2026 میں 395 افراد کمبوڈیا گئے اور ان میں سے 189 افراد کی واپسی نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران کمبوڈیا جانے والے مجموعی پاکستانیوں میں سے تقریباً 13.29 فیصد افراد واپس نہیں آئے۔ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے لیے صرف رجسٹرڈ اور قانونی ذرائع کا انتخاب کیا جائے تاکہ انسانی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے جال سے محفوظ رہا جا سکے۔