لاہور( شوبز ڈیسک)ایک یادگار فلم وہی ہوتی ہے جس کی کہانی ختم ہونے کے بعد بھی ناظرین کے ذہنوں میں زندہ رہے اور برسوں بعد بھی انہیں اس کے راز سمجھنے پر مجبور کرے۔ دنیا میں ایسی کئی فلمیں موجود ہیں جن کی پیچیدہ کہانیاں پہلی بار دیکھنے پر مکمل طور پر سمجھ نہیں آتیں اور لوگ انہیں دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ایسی فلمیں نہ صرف ذہن کو الجھاتی ہیں بلکہ اپنی دلچسپ کہانی اور اندازِ پیشکش سے ناظرین کو اسکرین سے نظریں ہٹانے نہیں دیتیں۔ انہی میں ایک مشہور سائنس فکشن فلم ’’انسیپشن‘‘ بھی شامل ہے، جو ریلیز کے 16 برس بعد بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی اس فلم کی کہانی خوابوں کی دنیا کے گرد گھومتی ہے، جس میں حقیقت اور خواب کے درمیان فرق کو انتہائی منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی کئی افراد اس کی کہانی اور اختتام کو سمجھنے کے لیے انٹرنیٹ پر وضاحتیں تلاش کرتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کرسٹوفر نولان نے ابتدا میں اس منصوبے کو سائنس فکشن کے بجائے ایک خوفناک فلم کے طور پر بنانے کا سوچا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کہانی کو تبدیل کر کے اسے ایک منفرد سائنسی تخیل پر مبنی فلم بنا دیا۔’’انسیپشن‘‘ 2010 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم اپنی منفرد کہانی، شاندار بصری اثرات اور پیچیدہ موضوع کی وجہ سے آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔
16 سال بعد بھی ’’انسیپشن‘‘ کا سحر برقرار، پیچیدہ کہانی آج بھی شائقین کو الجھائے ہوئے ہے
واپس خبروں پر
Category:
تفریح