تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

مبینہ تشدد اور جلائے جانے والی بھارتی انفلوئنسر چل بسیں

مبینہ تشدد اور جلائے جانے والی بھارتی انفلوئنسر چل بسیں

ممبئی( شو بز ڈیسک)بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر منجیت کور مبینہ اغوا، تشدد اور زندہ جلائے جانے کے واقعے کے تقریباً دو ماہ بعد دورانِ علاج انتقال کر گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق منجیت کور نے 26 اگست کو پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ میں دم توڑا، جہاں وہ شدید جھلسنے کے باعث زیرِ علاج تھیں۔ منجیت کور طلاق یافتہ تھیں اور ان کا 7 سالہ بیٹا بھی ہے۔متاثرہ خاتون کی والدہ کی جانب سے درج شکایت کے مطابق 3 جولائی کو شُبھی اور پِنڈا نامی دو جاننے والوں نے منجیت کور کو چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں شراب کی ایک دکان کے قریب ملاقات کے لیے بلایا۔ بعدازاں دونوں افراد نے مبینہ طور پر انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پنجاب کے ضلع روپ نگر کے علاقے مورِنڈا لے گئے۔الزام ہے کہ وہاں ملزمان نے منجیت کور کو تشدد کا نشانہ بنایا، شہتوت کے درخت سے باندھا اور آگ لگا دی۔ اس دوران منجیت کا ایک دوست موقع پر پہنچا اور کمبل کی مدد سے آگ بجھائی۔منجیت کور کو ابتدائی طور پر مورِنڈا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا، جس کے بعد انہیں موہالی منتقل کیا گیا، تاہم شدید جھلسنے کے باعث 9 جولائی کو پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ منتقل کردیا گیا۔ وہ کئی ہفتوں تک بے ہوش رہیں۔رپورٹ کے مطابق 5 اگست کو کچھ دیر کے لیے ہوش میں آنے کے بعد منجیت کور نے اہلِ خانہ کو مبینہ واقعے سے آگاہ کیا، تاہم بعد میں ان کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی اور 26 اگست کو وہ جانبر نہ ہوسکیں۔