کیلیفورنیا( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی نژاد معروف سائنسدان سچی دانند پانڈا کو جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران امریکی ریاست کیلیفورنیا کے معروف تحقیقی ادارے سالک انسٹیٹیوٹ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سچی دانند پانڈا گزشتہ 22 برس سے سالک انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تھے اور وہ 13 اگست کو باضابطہ طور پر ادارہ چھوڑ دیں گے۔ادارے کے مطابق رواں سال مارچ میں ایک خاتون ریسرچ اسسٹنٹ نے سرکاری شکایتی نظام کے ذریعے لیبارٹری میں مبینہ نامناسب رویے کی شکایت درج کروائی، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔ بعد ازاں مذکورہ خاتون نے رضاکارانہ طور پر ادارہ چھوڑ دیا۔رپورٹس کے مطابق سچی دانند پانڈا کے خلاف ہراسانی کے الزامات پر تحقیقات کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔سائنسدان نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحقیقی ٹیم اور ادارے میں ہمیشہ محفوظ، باوقار اور پیشہ ورانہ ماحول برقرار رکھنے کے لیے پرعزم رہے ہیں۔انہوں نے ساتھیوں کو بھیجے گئے پیغام میں ادارہ چھوڑنے کی وجہ مستقبل میں جسم کی حیاتیاتی گھڑی اور صحت سے متعلق سائنسی پیش رفت پر کتاب لکھنے کے منصوبے کو قرار دیا اور کہا کہ اب وہ اپنے کیریئر کے اگلے مرحلے کے اہداف پر توجہ دیں گے۔سچی دانند پانڈا انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی، وقفے وقفے سے روزہ رکھنے اور وقت کے مطابق خوراک کے استعمال کے شعبوں میں نمایاں تحقیق کے باعث عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔
جنسی بدسلوکی تحقیقات کے دوران بھارتی نژاد سائنسدان سالک انسٹیٹیوٹ سے فارغ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں