تازہ ترین
اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل نیمل خاور کا جسم پر تبصروں کے خلاف سخت ردعمل ڈاکٹر نبیہہ علی خان کا شوہر کیلئے گانا، ویڈیو وائرل قبر پر قوالی خاندانی روایت، راحت فتح علی خان کا وضاحتی بیان رمشا خان کی بہن کا انگریزی میں ’قبول ہے‘، ویڈیو وائرل نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا ممنوع واٹس ایپ چینل ایڈمنز کیلئے اپڈیٹس شیڈول کرنے کا نیا فیچر
پاکستان خبر

ایران کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں کثیرالجہتی تعاون پر زور

ایران کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں کثیرالجہتی تعاون پر زور

چولپون آتا، کرغزستان( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ضروری قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم سمیت دیگر کثیرالجہتی فورمز کو بہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کے غیر قانونی استعمال سے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم اس سے قبل بھی وہ اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اقدامات پر تنقید کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران سمیت کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔وزرائے خارجہ کا جاری اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ سمیت اہم امور پر غور متوقع ہے۔