تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

ایران میں جنگ کے 6 ماہ بعد عوامی مشکلات بڑھ گئیں

ایران میں جنگ کے 6 ماہ بعد عوامی مشکلات بڑھ گئیں

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد عام ایرانی شہریوں کو شدید معاشی اور روزمرہ مشکلات کا سامنا ہے۔ جنگ، سخت پابندیوں، ناقص معاشی انتظام اور بدعنوانی کے باعث مہنگائی میں اضافہ، آمدنی میں کمی اور بنیادی سہولتوں کی قلت نے عوامی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جن میں اس وقت کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب اور دیگر اہم اداروں کے متعدد اعلیٰ عہدیدار جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ایرانی حکومت قائم رہی اور علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کرلیا گیا، تاہم موجودہ رہبر مجتبیٰ علی خامنہ ای تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کے درمیان جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے، تاہم دونوں حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے سامنے کسی قسم کی پسپائی قبول نہیں کی جائے گی۔ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستہ کھولنے کے لیے عمان کے ساتھ مفاہمت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس انتظام کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل اور بلا رکاوٹ کھولنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور مذاکرات میں بھی اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔رپورٹ کے مطابق ایرانی معیشت کئی برس سے عائد پابندیوں، ناقص انتظامی پالیسیوں اور بدعنوانی کے باعث مشکلات کا شکار تھی، تاہم جنگ نے معاشی صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔