تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

ایران میں جنگ کے 6 ماہ بعد عوامی مشکلات بڑھ گئیں

ایران میں جنگ کے 6 ماہ بعد عوامی مشکلات بڑھ گئیں

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد عام ایرانی شہریوں کو شدید معاشی اور روزمرہ مشکلات کا سامنا ہے۔ جنگ، سخت پابندیوں، ناقص معاشی انتظام اور بدعنوانی کے باعث مہنگائی میں اضافہ، آمدنی میں کمی اور بنیادی سہولتوں کی قلت نے عوامی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جن میں اس وقت کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب اور دیگر اہم اداروں کے متعدد اعلیٰ عہدیدار جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ایرانی حکومت قائم رہی اور علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کرلیا گیا، تاہم موجودہ رہبر مجتبیٰ علی خامنہ ای تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کے درمیان جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے، تاہم دونوں حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے سامنے کسی قسم کی پسپائی قبول نہیں کی جائے گی۔ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستہ کھولنے کے لیے عمان کے ساتھ مفاہمت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس انتظام کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل اور بلا رکاوٹ کھولنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور مذاکرات میں بھی اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔رپورٹ کے مطابق ایرانی معیشت کئی برس سے عائد پابندیوں، ناقص انتظامی پالیسیوں اور بدعنوانی کے باعث مشکلات کا شکار تھی، تاہم جنگ نے معاشی صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔