تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مشاورت جاری

آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مشاورت جاری

عمان( مانیٹرنگ ڈیسک)عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنا ایران کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو عمان خطے اور عالمی سطح پر سمندری راستوں کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔عمانی وزیر خارجہ کے مطابق عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، تاہم سمندری، ماحولیاتی اور جہاز رانی سے متعلق خدمات کے عوض رضاکارانہ بنیادوں پر فیس کے معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان خدمات میں بحری راستوں کی حفاظت، سمندری آلودگی سے تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے متعلقہ ممالک اور شپنگ کمپنیوں کے ساتھ مشاورت بھی ممکن ہے۔اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس سے متعلق امور پر مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور ماہرین آئندہ سات سے آٹھ دن کے دوران خصوصی مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ مجوزہ انتظامات کا مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کی گزرگاہوں سے متعلق امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔