تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مشاورت جاری

آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مشاورت جاری

عمان( مانیٹرنگ ڈیسک)عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنا ایران کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو عمان خطے اور عالمی سطح پر سمندری راستوں کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔عمانی وزیر خارجہ کے مطابق عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، تاہم سمندری، ماحولیاتی اور جہاز رانی سے متعلق خدمات کے عوض رضاکارانہ بنیادوں پر فیس کے معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان خدمات میں بحری راستوں کی حفاظت، سمندری آلودگی سے تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے متعلقہ ممالک اور شپنگ کمپنیوں کے ساتھ مشاورت بھی ممکن ہے۔اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس سے متعلق امور پر مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور ماہرین آئندہ سات سے آٹھ دن کے دوران خصوصی مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ مجوزہ انتظامات کا مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کی گزرگاہوں سے متعلق امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔