تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی قومی سلامتی سے متعلق بنیادی معاملات ہیں اور ان پر امریکا سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں قومی سلامتی کی "ریڈ لائنز" ہیں، جن پر کسی بھی مرحلے پر بات چیت یا سمجھوتہ ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نہ صرف اپنے موجودہ دفاعی نظام کو برقرار رکھے گا بلکہ مستقبل میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔مجید ابن الرضا کے مطابق ایران کی دفاعی طاقت ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت ہے، اس لیے اسے کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف سفارتی اور تکنیکی معاملات پر بات چیت جاری ہے، تاہم ایرانی حکام بارہا اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات کا دائرہ صرف طے شدہ موضوعات تک محدود رہے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا یہ واضح مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے موجود ہیں، لیکن دفاعی اور عسکری امور تہران کے لیے بدستور ناقابلِ مذاکرات حیثیت رکھتے ہیں۔
میزائل اور ڈرون پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے:ایران کا دو ٹوک مؤقف
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں