تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی، ایران کا امریکا کو سخت جواب

خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی، ایران کا امریکا کو سخت جواب

 تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی تیل برآمدات کے اہم مرکز خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران خارگ جزیرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے مکمل تیاریاں موجود ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جارحانہ بیانات ایرانی قوم کے وقار، عزم اور مزاحمت کو کمزور نہیں کر سکتے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں حالیہ امریکی حملوں اور الزامات کے بعد مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئیں۔