تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی، ایران کا امریکا کو سخت جواب

خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی، ایران کا امریکا کو سخت جواب

 تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی تیل برآمدات کے اہم مرکز خارگ جزیرے پر حملے کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران خارگ جزیرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے مکمل تیاریاں موجود ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جارحانہ بیانات ایرانی قوم کے وقار، عزم اور مزاحمت کو کمزور نہیں کر سکتے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں حالیہ امریکی حملوں اور الزامات کے بعد مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئیں۔