تہران ( شو بز ڈیسک) ایرانی اداکارہ الناز شاکردوست کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی حمایت کرنے پر ایک سال قید کی سزا سنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔امریکا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ہرانا اور آزاد میڈیا ادارے امتداد کے مطابق اداکارہ کی سزا کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کردی گئی ہے۔ یہ معلومات ان کے وکیل سے گفتگو کے بعد سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق سزا کے علاوہ الناز شاکردوست پر دو سال تک سیاسی، فنکارانہ اور آن لائن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ ان پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مبینہ طور پر پروپیگنڈا سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔دو دہائیوں پر محیط فلمی سفر کے دوران متعدد فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ نے فروری میں کہا تھا کہ ملک گیر احتجاج کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد وہ ایران میں دوبارہ اداکاری نہیں کریں گی۔اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الناز شاکردوست نے کہا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کے سوگ میں ہیں، اس لیے کسی جشن میں شرکت نہیں کریں گی اور دوبارہ اس سرزمین پر کردار ادا نہیں کریں گی جہاں انہیں خون کی بو محسوس ہوتی ہے۔اداکارہ کی موجودہ صورتحال اور مقام کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں۔ پیرس میں موجود ان کی ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ الناز شاکردوست اس وقت جیل میں نہیں ہیں، تاہم وہ یہ تصدیق نہیں کرسکیں کہ اداکارہ ایران میں ہیں یا بیرون ملک۔رپورٹس کے مطابق جنوری میں مہنگائی اور بڑھتے روزمرہ اخراجات کے خلاف شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے خلاف ایرانی حکام نے سخت کارروائی کی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار بتائی، جبکہ ایرانی حکومت نے 3 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری مظاہرین کی کارروائیوں اور امریکا و اسرائیل کی مبینہ منصوبہ بندی پر عائد کی ہے۔