تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) جنگی صورتحال، عالمی پابندیوں اور امریکا کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باوجود ایران کی معیشت مکمل تباہی کا شکار نہیں ہوئی، تاہم لاکھوں شہری روزگار اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 9 کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی والا ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ تہران کئی دہائیوں سے عائد سخت پابندیوں کے باعث خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ایران نے تیل کی آمدن پر مکمل انحصار کم کرنے کے لیے زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کو فروغ دیا۔ اس کے علاوہ غیر رسمی تجارت، سرحدی کاروبار، تیل کی غیر اعلانیہ ترسیل اور سمندری تجارتی نیٹ ورکس نے بھی ملکی معیشت کو سہارا دیا۔ماہرین معاشیات کے مطابق ایران کی معیشت طویل عرصے سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنے کے باعث متبادل تجارتی راستے، مقامی پیداوار اور داخلی وسائل پر مبنی نظام قائم کر چکی ہے، جس کی وجہ سے شدید مشکلات کے باوجود معاشی ڈھانچہ برقرار ہے۔