ٹوکیو( مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں آنے والے 7.1 شدت کے شدید زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کوماموتو کے قریب واقع ایون مال کی عمارت زلزلے سے شدید متاثر ہوئی۔ زلزلے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد عمارت میں مبینہ دھماکا بھی ہوا، جس کے بعد اس کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے 8 افراد کو زندہ نکالا، تاہم ان میں سے 3 افراد بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔ مال انتظامیہ کے مطابق تقریباً 2 ہزار 700 ملازمین میں سے 4 کارکن تاحال لاپتا ہیں، جبکہ زلزلے کے فوری بعد تمام خریداروں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ کئی افراد اب بھی مدد کے منتظر ہیں اور ہر لمحہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق ایون مال میں ممکنہ گیس دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ امدادی کارکنوں نے عمارت کے اندر گیس کی بو محسوس ہونے کی اطلاع دی ہے، تاہم دھماکے کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آ سکی۔زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 4 ہزار 500 سے زائد فوجی اہلکار، فائر فائٹرز، پولیس اور دیگر امدادی کارکن تعینات کر دیے گئے ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق ایک کاغذ ساز فیکٹری کی چمنی گرنے سے 7 افراد لاپتا ہیں، جبکہ 4 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف اسپتالوں میں درجنوں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔زلزلے کے بعد تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کو بڑی تعداد میں ہنگامی کالز موصول ہوئیں، جن میں عمارتیں گرنے اور لوگوں کے ملبے تلے پھنسنے کی اطلاعات شامل تھیں۔