تازہ ترین
دھاندلی کی باریک وارداتوں کی ماہر پیپلز پارٹی خود دھاندلی کا شور مچا رہی ہے: مریم نواز آزاد کشمیر کو کسی صورت مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیا جائے گا: بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر احتجاج کے پیچھے بھارتی سرپرستی رکھنے والے عناصر موجود ہیں: خواجہ آصف راولاکوٹ میں مسلح عناصر کے خلاف سکیورٹی آپریشن جاری جاپان زلزلہ، ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں، امدادی کارروائیاں جاری نیتن یاہو کے دورہ امریکا پر واشنگٹن میں احتجاج جنگ اور پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت برقرار ٹرمپ کا نیتن یاہو پر تنقید، جنگ میں الجھانے کا الزام نئے مالی سال کیلئے دیت کی رقم ایک کروڑ 93 لاکھ روپے مقرر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 2 ڈالر سے زائد بڑھ گئیں آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کیلئے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ ایک کروڑ ایرانی ریال کے نوٹوں کا پیکٹ تقریباً 4 ہزار 500 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب شاہد آفریدی کراچی کے حالات پر تشویش میں مبتلا فاطمہ ثناء دی ہنڈریڈ کھیلنے انگلینڈ روانہ بھارتی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹن ڈوشیٹے مستعفی پاکستان فٹبال ٹیم پہلی بار فیفا آسیان کپ میں میدان میں اترے گی
پاکستان خبر

جاپان زلزلہ، ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں، امدادی کارروائیاں جاری

جاپان زلزلہ، ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں، امدادی کارروائیاں جاری

ٹوکیو( مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں آنے والے 7.1 شدت کے شدید زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کوماموتو کے قریب واقع ایون مال کی عمارت زلزلے سے شدید متاثر ہوئی۔ زلزلے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد عمارت میں مبینہ دھماکا بھی ہوا، جس کے بعد اس کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے 8 افراد کو زندہ نکالا، تاہم ان میں سے 3 افراد بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔ مال انتظامیہ کے مطابق تقریباً 2 ہزار 700 ملازمین میں سے 4 کارکن تاحال لاپتا ہیں، جبکہ زلزلے کے فوری بعد تمام خریداروں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ کئی افراد اب بھی مدد کے منتظر ہیں اور ہر لمحہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق ایون مال میں ممکنہ گیس دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ امدادی کارکنوں نے عمارت کے اندر گیس کی بو محسوس ہونے کی اطلاع دی ہے، تاہم دھماکے کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آ سکی۔زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 4 ہزار 500 سے زائد فوجی اہلکار، فائر فائٹرز، پولیس اور دیگر امدادی کارکن تعینات کر دیے گئے ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق ایک کاغذ ساز فیکٹری کی چمنی گرنے سے 7 افراد لاپتا ہیں، جبکہ 4 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف اسپتالوں میں درجنوں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔زلزلے کے بعد تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کو بڑی تعداد میں ہنگامی کالز موصول ہوئیں، جن میں عمارتیں گرنے اور لوگوں کے ملبے تلے پھنسنے کی اطلاعات شامل تھیں۔