تازہ ترین
دھاندلی کی باریک وارداتوں کی ماہر پیپلز پارٹی خود دھاندلی کا شور مچا رہی ہے: مریم نواز آزاد کشمیر کو کسی صورت مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیا جائے گا: بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر احتجاج کے پیچھے بھارتی سرپرستی رکھنے والے عناصر موجود ہیں: خواجہ آصف راولاکوٹ میں مسلح عناصر کے خلاف سکیورٹی آپریشن جاری جاپان زلزلہ، ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں، امدادی کارروائیاں جاری نیتن یاہو کے دورہ امریکا پر واشنگٹن میں احتجاج جنگ اور پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت برقرار ٹرمپ کا نیتن یاہو پر تنقید، جنگ میں الجھانے کا الزام نئے مالی سال کیلئے دیت کی رقم ایک کروڑ 93 لاکھ روپے مقرر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 2 ڈالر سے زائد بڑھ گئیں آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کیلئے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ ایک کروڑ ایرانی ریال کے نوٹوں کا پیکٹ تقریباً 4 ہزار 500 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب شاہد آفریدی کراچی کے حالات پر تشویش میں مبتلا فاطمہ ثناء دی ہنڈریڈ کھیلنے انگلینڈ روانہ بھارتی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹن ڈوشیٹے مستعفی پاکستان فٹبال ٹیم پہلی بار فیفا آسیان کپ میں میدان میں اترے گی
پاکستان خبر

آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کیلئے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کیلئے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) ملک میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے اور گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ وفاق نے ابتدائی طور پر تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت وفاقی ویٹ بورڈ کے اجلاس میں صوبوں کی گندم کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ درآمدی گندم کی ادائیگی کے لیے صوبائی حکومتیں بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) جاری کریں گی، جبکہ ادائیگی میں کمی کی صورت میں واجب الادا رقم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے سے وصول کی جائے گی۔پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق سرکاری سطح پر آٹے کی اوسط قیمت گزشتہ ایک سال کے دوران 74 فیصد اضافے کے بعد 129 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پشاور میں آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک ریکارڈ کی گئی۔اجلاس میں پنجاب نے 10 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ نے 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا نے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن جبکہ بلوچستان نے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔وفاقی حکومت نے گندم کی فراہمی بہتر بنانے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے درآمدی منصوبے پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔