تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

اسلام آباد ہائیکورٹ: شاہ اللہ دتہ و سنگجانی میں جائیدادوں پر پابندی غیر قانونی قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ: شاہ اللہ دتہ و سنگجانی میں جائیدادوں پر پابندی غیر قانونی قرار

اسلام آباد( پاکستان خبر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔جسٹس محمد آصف نے شہری فضل عباس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کی پیروی وکیل کاشف علی ملک نے کی۔عدالت نے قرار دیا کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے معاملات قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلائے جانے چاہئیں، جبکہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو روکنے کے نام پر عام شہریوں کے بنیادی ملکیتی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔فیصلے میں کہا گیا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے خط کی بنیاد پر لگائی گئی عمومی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سب رجسٹرار اور ریونیو حکام کو جاری کیے گئے زبانی احکامات بھی قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ انتظامیہ نے سابق عدالتی حکم کی اپنی مرضی سے تشریح کی، جبکہ وہ حکم صرف غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیرات اور خرید و فروخت روکنے تک محدود تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو ادارے عدالتی احکامات پر من و عن عمل کے پابند ہیں اور انتظامی ہدایات کے ذریعے عدالتی فیصلوں میں ردوبدل نہیں کر سکتے۔ مزید کہا گیا کہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت ڈپٹی کمشنر کو جائیداد منجمد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے تحت شہریوں کے جائیداد کے حقوق کو متاثر کرنے کے لیے واضح قانونی جواز ضروری ہے، اور بغیر قانون کے زمین کے انتقال پر مکمل پابندی آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پورے علاقے کے قانون پسند شہریوں پر یکساں پابندی لگانا امتیازی سلوک کے مترادف ہے، جبکہ اصل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جانی چاہیے۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار کی والدہ بیماری کی وجہ سے اسپتال میں زیر علاج تھیں اور جائیداد منجمد ہونے کے باعث وہ علاج کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر رہے، جو کہ ان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سی ڈی اے کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا، تاہم ہر اقدام قانون کے مطابق اور مناسب طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔