تازہ ترین
مستونگ میں امن و امان کے لیے کرفیو نافذ پاکستان اور عمان میں تجارت و تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور امریکا میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق مون سون بارشیں، پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ بھارت میں طلبہ احتجاج پھیل گیا، حکومت سے استعفوں کا مطالبہ جنسی بدسلوکی تحقیقات کے دوران بھارتی نژاد سائنسدان سالک انسٹیٹیوٹ سے فارغ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا پاکستان اور آئی ایم ایف میں اقتصادی اصلاحات پر اہم مذاکرات پاکستان اور ایران میں تجارتی مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت کراچی میں فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس کو کسٹمز پورٹ کا درجہ دے دیا گیا پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا پریکٹس میچ بغیر نتیجے کے ختم میا خلیفہ نے اسپین کی فتح پر بھاری شرط جیت لی پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2026-27 کا شیڈول جاری کر دیا گلیات ٹریل ریس، 400 سے زائد رنرز نے حصہ لیا
پاکستان خبر

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: صرف اوور اسٹے پر سفری پابندی غیر قانونی قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: صرف اوور اسٹے پر سفری پابندی غیر قانونی قرار

اسلام آباد(پاکستان خبر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف اوور اسٹے کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں بن سکتا۔جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں عدالت نے ایک شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا نام فوری طور پر فہرست سے نکالنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سفری پابندی عائد کرنے کے لیے کسی جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید شواہد کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر کسی جرم کے شہری کے بیرون ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانا جائز نہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کی پابندیاں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اے، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، اور شہری کا نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل رکھنا بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ متعلقہ شہری کو خلیجی ملک میں اوور اسٹے کے باعث ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور پالیسی کے تحت اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تاکہ ویزا نظام اور ملکی وقار کو تحفظ دیا جا سکے۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ محض اوور اسٹے کی بنیاد پر سفری پابندی عائد کرنا قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔