تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

اسرائیل کا ٹرمپ پر مبینہ ایرانی حملے سے متعلق خفیہ معلومات دینے کا دعویٰ

اسرائیل کا ٹرمپ پر مبینہ ایرانی حملے سے متعلق خفیہ معلومات دینے کا دعویٰ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں امریکا کو ایسی خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ایک مبینہ مخصوص ایرانی منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام کو طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ حملوں سے متعلق مختلف اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے دی گئی حالیہ معلومات ایک نئے اور مخصوص منصوبے سے متعلق ہیں۔اسی حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل نے بھی نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں نے امریکا کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مبینہ منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر فوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث خطے میں بڑے تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔دوسری جانب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ کے ترکیہ سے روانگی کیلئے ایک مختلف طیارہ استعمال کرنے کے معاملے پر بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال ان میڈیا رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔