نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) سے 120 خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد بھارتی حکومت نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق محکمۂ خلاء نے فیصلہ کیا ہے کہ اب سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواستوں کا فیصلہ متعلقہ شعبے کے سربراہ کے بجائے اسرو ہیڈکوارٹر میں سماعت کے بعد کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں اسرو کے سائنسدانوں اور انجینیئرز، خصوصاً گگن یان اور دیگر اہم خلائی منصوبوں پر کام کرنے والے ماہرین کی جانب سے استعفوں اور رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ متعدد سائنسدان سرکاری اداروں کے فرسودہ نظام سے مایوس ہو کر زیادہ تنخواہوں اور بہتر مواقع کی وجہ سے نجی شعبے کا رخ کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں بھارت کی جانب سے خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جنہوں نے اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں