تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں

120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں

 نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) سے 120 خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد بھارتی حکومت نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق محکمۂ خلاء نے فیصلہ کیا ہے کہ اب سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواستوں کا فیصلہ متعلقہ شعبے کے سربراہ کے بجائے اسرو ہیڈکوارٹر میں سماعت کے بعد کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں اسرو کے سائنسدانوں اور انجینیئرز، خصوصاً گگن یان اور دیگر اہم خلائی منصوبوں پر کام کرنے والے ماہرین کی جانب سے استعفوں اور رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ متعدد سائنسدان سرکاری اداروں کے فرسودہ نظام سے مایوس ہو کر زیادہ تنخواہوں اور بہتر مواقع کی وجہ سے نجی شعبے کا رخ کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں بھارت کی جانب سے خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جنہوں نے اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔