تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

جاپان میں قومی پرچم کی توہین پر سزا کا نیا قانون منظور

جاپان میں قومی پرچم کی توہین پر سزا کا نیا قانون منظور

ٹوکیو( مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ملک کے قومی پرچم کی دانستہ بے حرمتی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جاپانی پرچم کو جلائے، پھاڑے یا کسی ایسے طریقے سے نقصان پہنچائے جسے توہین یا بے حرمتی تصور کیا جائے تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں دو سال تک قید اور 2 لاکھ ین تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔حکام کے مطابق قانون کا مقصد قومی علامت کے احترام کو یقینی بنانا اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جاپان کو بھی اپنی قومی علامات کے تحفظ کا حق حاصل ہے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ ایسی قانون سازی آزادیِ اظہار کے حوالے سے خدشات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان احتجاجی سرگرمیوں میں جہاں قومی پرچم کو علامتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔جاپانی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ قانون کا اطلاق صرف ان معاملات میں ہوگا جہاں جان بوجھ کر اور واضح طور پر پرچم کی توہین ثابت ہو۔ حکومت کے مطابق اس قانون کا مقصد عام شہریوں کی معمول کی سرگرمیوں کو محدود کرنا نہیں ہے۔