ٹوکیو( مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ملک کے قومی پرچم کی دانستہ بے حرمتی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جاپانی پرچم کو جلائے، پھاڑے یا کسی ایسے طریقے سے نقصان پہنچائے جسے توہین یا بے حرمتی تصور کیا جائے تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں دو سال تک قید اور 2 لاکھ ین تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔حکام کے مطابق قانون کا مقصد قومی علامت کے احترام کو یقینی بنانا اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جاپان کو بھی اپنی قومی علامات کے تحفظ کا حق حاصل ہے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ ایسی قانون سازی آزادیِ اظہار کے حوالے سے خدشات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان احتجاجی سرگرمیوں میں جہاں قومی پرچم کو علامتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔جاپانی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ قانون کا اطلاق صرف ان معاملات میں ہوگا جہاں جان بوجھ کر اور واضح طور پر پرچم کی توہین ثابت ہو۔ حکومت کے مطابق اس قانون کا مقصد عام شہریوں کی معمول کی سرگرمیوں کو محدود کرنا نہیں ہے۔