تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا میں بجلی بحران پر وزیراعلیٰ کا وفاق سے شکوہ

خیبرپختونخوا میں بجلی بحران پر وزیراعلیٰ کا وفاق سے شکوہ

پشاور( پاکستان خبر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کو اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور توانائی سے متعلق امور پر اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے بجلی کی صورتحال، منصوبوں میں تاخیر اور عوامی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔سہیل آفریدی نے اجلاس میں زیر التوا 1638 کیسز کو فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادائیگیاں مکمل ہونے کے باوجود کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری سامان کی عدم فراہمی عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو سیاسی ترجیحات کے بجائے عوامی مفاد، انصاف اور میرٹ کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر فنڈز موجود ہونے کے باوجود خریداری میں تاخیر سے اخراجات میں اضافہ ہوا تو اضافی مالی بوجھ متعلقہ محکمے کو برداشت کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجلی کے کنکشن میں تاخیر کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ خیبرپختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود ناانصافی اور امتیازی سلوک کا سامنا کر رہا ہے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسائل برداشت کر رہے ہیں، جبکہ وفاق صوبے کے آئینی اور مالی حقوق بھی ادا نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق پر خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد گیس پیدا کر کے وفاق کو فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود خیبرپختونخوا کے اپنے سی این جی اسٹیشن بند کر دیے جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے پشاور، ٹرائبل اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کو تمام زیر التوا معاملات فوری حل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ شدید گرم علاقوں میں ستمبر اور دیگر علاقوں میں دسمبر تک بجلی کی جاری اسکیمیں مکمل کرنے کا حکم دیا۔