تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان

خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان

پشاور( پاکستان خبر)خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا میں صوبائی حکومت کے زیر انتظام تمام ٹیکس واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ وفاق سے ان علاقوں کے لیے 10 سالہ ٹیکس استثنیٰ اور انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے معاملے پر صوبائی حکومت کے زیر اہتمام گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ، جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن کا ایک مؤقف پر ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سی این جی اور گندم سمیت مختلف معاملات پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل پر سیاسی جماعتوں نے متفقہ مؤقف اختیار کیا ہے اور وفاق سے خیبرپختونخوا کے آئینی و مالی حقوق کے لیے مضبوط دلائل کے ساتھ بات کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے لیے وفاق کی جانب سے 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، ایسے میں وعدے مکمل کیے بغیر ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق فاٹا کے تاجروں کو ملک کے دیگر بڑے شہروں کے تاجروں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور صوبائی حقوق و مفادات کے ہر معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔