فیصل آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان کی برآمدی صنعت، بالخصوص ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور چمڑے کے شعبے، ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ماحولیاتی کارکردگی صرف کاروباری ساکھ کا معاملہ نہیں رہی بلکہ بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے اہم شرط بنتی جارہی ہے۔پاکستانی برآمدات پہلے ہی مہنگی توانائی، مالی مشکلات، کمزور بنیادی ڈھانچے اور حکومتی پالیسیوں کے باعث دباؤ میں ہیں۔ ایسے حالات میں صاف ستھری اور کم کاربن پیداوار کی طرف منتقلی صنعت کے لیے ایک جانب مسابقت بڑھانے کا موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم دوسری جانب یہ اضافی مالی بوجھ بھی بن سکتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ منتقلی کے اخراجات کس انداز میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 17.93 ارب ڈالر رہیں، تاہم ان میں صرف 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جولائی سے مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 59.7 فیصد کا حصہ رکھتا تھا۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں ملکی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد ہے۔پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بھی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف رعایتیں حاصل ہوئیں۔ ایسے میں کم کاربن پیداوار اور پائیدار سپلائی چینز کی جانب پیش رفت پاکستان کے لیے براہ راست معاشی اہمیت رکھتی ہے۔