تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی

کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی

فیصل آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان کی برآمدی صنعت، بالخصوص ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور چمڑے کے شعبے، ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ماحولیاتی کارکردگی صرف کاروباری ساکھ کا معاملہ نہیں رہی بلکہ بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے اہم شرط بنتی جارہی ہے۔پاکستانی برآمدات پہلے ہی مہنگی توانائی، مالی مشکلات، کمزور بنیادی ڈھانچے اور حکومتی پالیسیوں کے باعث دباؤ میں ہیں۔ ایسے حالات میں صاف ستھری اور کم کاربن پیداوار کی طرف منتقلی صنعت کے لیے ایک جانب مسابقت بڑھانے کا موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم دوسری جانب یہ اضافی مالی بوجھ بھی بن سکتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ منتقلی کے اخراجات کس انداز میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 17.93 ارب ڈالر رہیں، تاہم ان میں صرف 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جولائی سے مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 59.7 فیصد کا حصہ رکھتا تھا۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں ملکی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد ہے۔پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بھی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف رعایتیں حاصل ہوئیں۔ ایسے میں کم کاربن پیداوار اور پائیدار سپلائی چینز کی جانب پیش رفت پاکستان کے لیے براہ راست معاشی اہمیت رکھتی ہے۔