تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

ملائیشیا کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف برقرار

ملائیشیا کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف برقرار

کوالالمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشیا نے ایک بار پھر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی اپنی دیرینہ پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے کہا ہے کہ امریکا کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے کوالالمپور کے ساتھ سیکیورٹی اور اقتصادی تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کے باوجود ملک کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکا میں ملائیشیا کے سفیر محمد شہرول اکرام یعقوب نے امریکی محکمہ خارجہ کی طلبی کے بعد ملائیشیا کے مؤقف کی وضاحت کی۔محمد حسن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے ملائیشیا کی پالیسی کوئی نیا فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری سرکاری مؤقف ہے، جسے مختلف حکومتوں نے برقرار رکھا ہے۔ملائیشیا کی قومی خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک اس معاملے کو اپنی دیرینہ پالیسیوں کے مطابق دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی امیگریشن پالیسی اسرائیل یا اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتی، اور یہ مؤقف کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔واضح رہے کہ ملائیشیا ان مسلم اکثریتی ممالک میں شامل ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ فلسطینی عوام کی حمایت کے تحت ملائیشیا اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔