تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

مانگی ڈیم حملہ: 27 اہلکار شہید، 15 دہشت گرد ہلاک، حکومتی رپورٹ جاری

مانگی ڈیم حملہ: 27 اہلکار شہید، 15 دہشت گرد ہلاک، حکومتی رپورٹ جاری

 کو ئٹہ( پاکستان خبر)بلوچستان حکومت نے مانگی ڈیم پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق حملے میں کم از کم 27 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 15 دہشت گرد مارے گئے۔صوبائی حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملے کے دوران مخصوص حکمت عملی اختیار کی، جبکہ پوسٹ پر تعینات اہلکار پہلے ہی ممکنہ خطرے سے آگاہ تھے۔ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے حملے کے خدشے سے متعلق اطلاعات ملنے کے بعد چند روز قبل پوسٹ پر نفری میں اضافہ بھی کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق 6 جولائی کی صبح ڈی ایس پی کی سربراہی میں تقریباً 35 پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، جبکہ قریب ترین فرنٹیئر کور کی چوکی تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔صوبائی حکومت کے مطابق صبح تقریباً 11 بجے دور دراز علاقے سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز اور فرنٹیئر کور حکام کو دی گئی۔ چونکہ پوسٹ پر اضافی نفری اور بہتر اسلحہ موجود تھا، اس لیے کمانڈنگ افسر کو یقین تھا کہ اہلکار صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹرز نے مزید کمک کیلئے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی دستہ روانہ کیا، جبکہ فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور مدد کیلئے مسلح ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں بھیجا، جس نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک نگرانی کی۔حکومتی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے فوری براہ راست حملے کے بجائے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ پولیس اہلکار زیادہ سے زیادہ گولہ بارود استعمال کر لیں۔ شام تک پوسٹ پر موجود بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا، تاہم اہلکار اپنی پوزیشنوں پر ڈٹے رہے۔رپورٹ کے مطابق جب پولیس کی اضافی نفری پوسٹ کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی شدید فائرنگ شروع کر دی، جس کے باعث کمک کو کچھ فاصلے پر رکنا پڑا۔ اس دوران فرنٹیئر کور نے جدید نگرانی آلات اور مارٹر فائر کے ذریعے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، جس کی آڑ میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے پیش قدمی شروع کی۔حکومتی رپورٹ کے مطابق رات کے وقت دہشت گردوں نے پوسٹ پر براہ راست حملہ کیا اور انتہائی قریب پہنچ گئے۔ شدید مقابلے کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے۔ کمک پہنچنے کے بعد زخمی اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گولہ بارود تقریباً ختم ہونے کے بعد باقی اہلکار، جن میں ڈی ایس پی سمیت 28 پولیس اہلکار شامل تھے، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں کی صورت میں نکلنے لگے۔ ایک گروپ ڈی ایس پی کی قیادت میں بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گیا، تاہم دوسرا گروپ، جس میں 18 اہلکار شامل تھے، دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا لیا گیا۔بلوچستان حکومت کے مطابق علاقے کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار ہے، جہاں بلند پہاڑ، گہری دراڑیں، پتھریلے راستے اور کھائیاں موجود ہیں، جس کے باعث نقل و حرکت اور کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسی وجہ سے پولیس اور فرنٹیئر کور کی پیش قدمی انتہائی احتیاط سے جاری رکھی گئی۔واقعے کے بعد فرنٹیئر کور اور پاک فوج نے پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق 300 مربع کلومیٹر سے زائد دشوار گزار پہاڑی علاقے میں کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔صوبائی حکومت نے کہا کہ واقعے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے گمراہ کن اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم دستیاب شواہد کے مطابق مانگی ڈیم پولیس پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے آخری وقت تک بھرپور مزاحمت کی۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں وزیراعظم نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔