واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکا کی 29 ریاستوں نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس کی سماعت 18 اگست سے کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں شروع ہوگئی۔مقدمے کی کارروائی 6 سے 8 ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔ کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلز وکلا کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ مقدمہ اکتوبر 2023ء میں 233 صفحات پر مشتمل شکایت کے ذریعے دائر کیا گیا تھا۔ریاستی حکام کا الزام ہے کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ بچے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹ فارمز پر گزاریں۔ اس مقصد کے لیے لامحدود مواد دیکھنے، مسلسل اطلاعات اور دیگر ایسے فیچرز شامل کیے گئے جن سے صارفین کی توجہ برقرار رہے۔مقدمے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ میٹا نے والدین کی اجازت کے بغیر 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا حاصل کیا، جو ریاستی اور وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ریاستی وکلا کے مطابق کمپنی نے پلیٹ فارمز کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ ہونے کے باوجود حفاظتی اقدامات کے بجائے اپنے مالی مفادات کو ترجیح دی۔سماعت کے دوران میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ اور انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری سمیت اہم شخصیات کے بیانات بھی متوقع ہیں۔ مقدمے کے نتیجے میں میٹا پر بھاری مالی جرمانے اور فیس بک و انسٹاگرام کے ڈیزائن میں تبدیلی کے احکامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔میٹا نے ریاستوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ریاستوں کے پاس اپنے دعووں کے لیے مناسب شواہد نہیں اور مالی مطالبات بھی نامناسب ہیں۔یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا کو بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق نیو میکسیکو کے ایک مقدمے میں گزشتہ ہفتے بڑا دھچکا لگا، جہاں عدالت نے کمپنی کو 567 ملین ڈالر ادا کرنے اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے پلیٹ فارمز میں متعدد تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا تھا۔ریاستی حکومتوں کی جانب سے دائر مقدمات میں میٹا سے مالی جرمانوں کے علاوہ فیس بک اور انسٹاگرام کے ڈیزائن اور طریقہ کار میں تبدیلیاں بھی طلب کی جا رہی ہیں، جس کے باعث موجودہ مقدمہ نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں میں اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔