تازہ ترین
میدویدیف تماشائی کو گیند لگنے پر نااہل،بیجنگ اوپن ورلڈکپ 2027: پاکستان، بھارت سمیت 10 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرگئیں سلمان آغا کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی ختم، ٹیم سے بھی باہر ہوگئے حیدرآباد کا نیاز اسٹیڈیم 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے وزیراعظم کی سردیوں میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت ایل این جی فراہمی میں خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ آئی ایم ایف کا صوبائی صحت، تعلیم اخراجات کا ہدف کم کرنے پر غور پاکستان کی 16 ممالک میں گوشت برآمد کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی نائجیریا میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، 32 افراد جاں بحق آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک برطانوی اڈے سے بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے گئے، وینس سرخی: ایران کی خلیجی ممالک کو خبردار، سرزمین حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں حکومت اور اپوزیشن میں 24 گھنٹوں میں مذاکرات کی امید، فواد چودھری اپنی چھت اپنا گھر، عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے پر جواب خیبرپختونخوا کی صورتحال، صدر اور وزیراعظم میں آج اہم مشاورت پرائیویٹ استاد
پاکستان خبر

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط، وضاحتیں طلب

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط، وضاحتیں طلب

لاہور ( سپورٹس ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے خلاف جاری تحقیقات کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تیسرا خط ارسال کردیا۔رضوان نے خط میں 2 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ادارے کا نوٹس موصول ہوگیا ہے اور وہ مقررہ تاریخ کو انکوائری میں شامل ہونے کے لیے پیش ہوں گے۔قومی کرکٹر نے نئے نوٹس میں موجود سوالات اور تحقیقات کے دائرہ کار سے متعلق مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ عدالت میں ادارے کی جانب سے پیکا 2016ء کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی دفعہ کا حوالہ دیا گیا۔ تاہم نئے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ یا جوئے کے الزامات شامل نہیں، اس لیے موجودہ صورتحال واضح کی جائے۔محمد رضوان نے دریافت کیا کہ کیا تحقیقات اب بھی آن لائن بیٹنگ یا جوئے سے متعلق ہیں؟ پیکا 2016ء کی کون سی مخصوص دفعات انکوائری کا حصہ ہیں؟ اگر پہلے نوٹس کے بعد تحقیقات کا دائرہ تبدیل کیا گیا ہے تو موجودہ دائرہ کار سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بیٹنگ اور جوئے کے الزامات ان کے کرکٹ کیریئر کی ساکھ سے متعلق معاملے سے جڑے ہیں تو کیا پاکستان کرکٹ بورڈ، بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ یا کسی دوسرے متعلقہ کرکٹ ادارے کو تحقیقات سے آگاہ کیا گیا؟ کیا ان اداروں سے کسی قسم کی معلومات حاصل کی گئیں یا رابطہ کیا گیا؟رضوان نے اپنے خط میں موبائل فون سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہے، جس کا پاس ورڈ وہ انگلینڈ اور پہلی پیشی کے موقع پر فراہم کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی موجودگی میں فون دوبارہ کھول کر چیک بھی کیا گیا، تاہم موبائل قبضے میں لینے کی رسید، وارنٹ، تحویل کا ریکارڈ یا اسے مسلسل اپنے پاس رکھنے سے متعلق کوئی تحریری دستاویز انہیں فراہم نہیں کی گئی۔قومی کرکٹر نے پوچھا کہ فرانزک معائنے کے لیے انہیں ذاتی طور پر مزید کس تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرانزک جانچ بلا تاخیر مکمل کرکے موبائل فون فوری طور پر واپس کیا جائے۔محمد رضوان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دراصل ان پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم وہ کسی بھی قانونی تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔