تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

مومنہ اقبال تنازع، نادیہ حسین نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا

مومنہ اقبال تنازع، نادیہ حسین نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا

 لاہور( شوبز ڈیسک)پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور کاروباری شخصیت نادیہ حسین نے اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے ایم پی اے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا کہ ثاقب چدھڑ کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں، ہراسانی کی گئی اور ان کی شادی کے معاملات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مقصد شادی خراب کرنا نہیں بلکہ صرف وہ تحائف واپس لینا ہے جو انہوں نے مومنہ اقبال کو دیے تھے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ حسین نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ازدواجی حیثیت اور باہر تعلقات کا اعتراف کر رہا ہے تو اس سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحائف کسی تعلق کے خاتمے کے بعد واپس نہیں مانگے جاتے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے دیے گئے ہوتے ہیں۔نادیہ حسین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو منصفانہ طریقے سے دیکھیں اور امید ظاہر کی کہ مومنہ اقبال کی آئندہ شادی سے پہلے اس کیس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے کسی رکن کو قصوروار پایا گیا تو اس پر حکومتی ردعمل بھی سامنے آنا چاہیے۔