تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

مومنہ اقبال تنازع، نادیہ حسین نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا

مومنہ اقبال تنازع، نادیہ حسین نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا

 لاہور( شوبز ڈیسک)پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور کاروباری شخصیت نادیہ حسین نے اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے ایم پی اے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا کہ ثاقب چدھڑ کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں، ہراسانی کی گئی اور ان کی شادی کے معاملات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مقصد شادی خراب کرنا نہیں بلکہ صرف وہ تحائف واپس لینا ہے جو انہوں نے مومنہ اقبال کو دیے تھے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ حسین نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ازدواجی حیثیت اور باہر تعلقات کا اعتراف کر رہا ہے تو اس سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحائف کسی تعلق کے خاتمے کے بعد واپس نہیں مانگے جاتے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے دیے گئے ہوتے ہیں۔نادیہ حسین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو منصفانہ طریقے سے دیکھیں اور امید ظاہر کی کہ مومنہ اقبال کی آئندہ شادی سے پہلے اس کیس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے کسی رکن کو قصوروار پایا گیا تو اس پر حکومتی ردعمل بھی سامنے آنا چاہیے۔