تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

نیب مالی حد میں تبدیلی سے متاثر کیسز بچانے کے لیے نئی تشریح پر غور

نیب مالی حد میں تبدیلی سے متاثر کیسز بچانے کے لیے نئی تشریح پر غور

اسلام آباد( پاکستان خبر) قومی احتساب بیورو (نیب) قانون کی ایک نئی تشریح پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد ایسے بدعنوانی کے مقدمات کو بند ہونے سے بچانا ہے جو مہنگائی کے باعث مالی حد میں اضافے کے بعد نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز نیب میں زیر غور ہے، جسے پالیسی فیصلے کے لیے جلد ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ جس طرح مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کی مالی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 80 کروڑ روپے کی گئی ہے، اسی اصول کا اطلاق مبینہ مالی نقصان پر بھی کیا جائے۔ یہ نقصان کسی فرد، سرکاری ادارے یا قومی خزانے کو پہنچنے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔مجوزہ تشریح کے مطابق اگر کوئی ملزم یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ ترمیم شدہ قانون کے بعد مبینہ بدعنوانی کی رقم نئی مالی حد سے کم ہونے کے باعث نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، تو مبینہ طور پر ہڑپ کی گئی رقم کی موجودہ قدر بھی مہنگائی کے تناسب سے دوبارہ مقرر کی جائے گی۔اس طریقہ کار کے نتیجے میں مبینہ مالی نقصان کی موجودہ مالیت بڑھ سکتی ہے، جس کے باعث بعض مقدمات دوبارہ نیب کے دائرہ اختیار میں آ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے کی گئی قانونی تبدیلی کا فائدہ صرف ملزمان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ متاثرہ فریق کو پہنچنے والے مالی نقصان کی حقیقی قدر کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔اگر نیب کا ایگزیکٹو بورڈ اس تجویز کی منظوری دے دیتا ہے اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے تو مالی حد میں اضافے کے باعث بند ہونے والے بدعنوانی کے مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔