اسلام آباد( پاکستان خبر) قومی احتساب بیورو (نیب) قانون کی ایک نئی تشریح پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد ایسے بدعنوانی کے مقدمات کو بند ہونے سے بچانا ہے جو مہنگائی کے باعث مالی حد میں اضافے کے بعد نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز نیب میں زیر غور ہے، جسے پالیسی فیصلے کے لیے جلد ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ جس طرح مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کی مالی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 80 کروڑ روپے کی گئی ہے، اسی اصول کا اطلاق مبینہ مالی نقصان پر بھی کیا جائے۔ یہ نقصان کسی فرد، سرکاری ادارے یا قومی خزانے کو پہنچنے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔مجوزہ تشریح کے مطابق اگر کوئی ملزم یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ ترمیم شدہ قانون کے بعد مبینہ بدعنوانی کی رقم نئی مالی حد سے کم ہونے کے باعث نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، تو مبینہ طور پر ہڑپ کی گئی رقم کی موجودہ قدر بھی مہنگائی کے تناسب سے دوبارہ مقرر کی جائے گی۔اس طریقہ کار کے نتیجے میں مبینہ مالی نقصان کی موجودہ مالیت بڑھ سکتی ہے، جس کے باعث بعض مقدمات دوبارہ نیب کے دائرہ اختیار میں آ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے کی گئی قانونی تبدیلی کا فائدہ صرف ملزمان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ متاثرہ فریق کو پہنچنے والے مالی نقصان کی حقیقی قدر کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔اگر نیب کا ایگزیکٹو بورڈ اس تجویز کی منظوری دے دیتا ہے اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے تو مالی حد میں اضافے کے باعث بند ہونے والے بدعنوانی کے مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔