تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

نیتن یاہو ترکیہ کو دشمن بنا کر انتخابی فائدہ چاہتا ہے، سابق سفیر

نیتن یاہو ترکیہ کو دشمن بنا کر انتخابی فائدہ چاہتا ہے، سابق سفیر

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ترکیہ کو نیا دشمن قرار دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً اکتوبر کے قانون ساز انتخابات کے تناظر میں۔عرب میڈیا سے گفتگو میں ریکارڈون نے بتایا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے انتخابی اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین میں شامل دکھایا گیا ہے۔ اشتہار میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ اردوان نیتن یاہو کی کامیابی روکنا چاہتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اشتہار سامنے آنے کے چند روز بعد شمالی شام میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ابو الظاہر فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا مقصد خطے میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کو روکنا تھا۔اسرائیلی انتخابات میں دو ماہ سے کم وقت باقی رہنے پر حملے کے وقت نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے کہ کارروائی حقیقی سکیورٹی خطرے کے جواب میں ہوئی یا انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے خطرے کو نمایاں کیا گیا۔ ترکیہ، امریکا اور نیتن یاہو کے بعض سیاسی مخالفین نے بھی کارروائی کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔