تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

نیتن یاہو ترکیہ کو دشمن بنا کر انتخابی فائدہ چاہتا ہے، سابق سفیر

نیتن یاہو ترکیہ کو دشمن بنا کر انتخابی فائدہ چاہتا ہے، سابق سفیر

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ترکیہ کو نیا دشمن قرار دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً اکتوبر کے قانون ساز انتخابات کے تناظر میں۔عرب میڈیا سے گفتگو میں ریکارڈون نے بتایا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے انتخابی اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین میں شامل دکھایا گیا ہے۔ اشتہار میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ اردوان نیتن یاہو کی کامیابی روکنا چاہتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اشتہار سامنے آنے کے چند روز بعد شمالی شام میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ابو الظاہر فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا مقصد خطے میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کو روکنا تھا۔اسرائیلی انتخابات میں دو ماہ سے کم وقت باقی رہنے پر حملے کے وقت نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے کہ کارروائی حقیقی سکیورٹی خطرے کے جواب میں ہوئی یا انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے خطرے کو نمایاں کیا گیا۔ ترکیہ، امریکا اور نیتن یاہو کے بعض سیاسی مخالفین نے بھی کارروائی کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔