تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

زمین کے اندر گہرائی میں زندگی کی نئی دنیا دریافت

زمین کے اندر گہرائی میں زندگی کی نئی دنیا دریافت

مشی گن ( ویب ڈیسک) مین کی سطح سے سیکڑوں فٹ نیچے چٹانوں اور پانی کے اندر بھی زندگی کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے، جہاں فنگس اور دیگر خوردبینی جاندار مل کر ایک مکمل ماحولیاتی سلسلہ قائم کیے ہوئے ہیں۔یونیورسٹی آف مشی گن کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں موجود فنگس کی تعداد سائنس دانوں کے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ڈاکٹریٹ کی طالبہ کوئن مون کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے دوران ماہرین نے زمین سے تقریباً 1640 فٹ نیچے گیس کے کنوؤں سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔تحقیق کے دوران جینیاتی طریقوں اور خوردبین کے ذریعے فنگس کی 689 اقسام کی نشاندہی کی گئی، جن میں 13 اقسام ایسی تھیں جن کا پہلے کبھی سائنسی طور پر ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق پانی کے ایک قطرے میں تقریباً 250 فنگل خلیے موجود تھے، جبکہ اولمپک سائز کے سوئمنگ پول میں ان کی تعداد 12 ٹریلین سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔محققین کو زیر زمین ماحول میں دیگر پیچیدہ جاندار بھی ملے، جن میں ٹارڈی گریڈز اور چھوٹے جسامت والے کیڑے شامل ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ جاندار مل کر ایک حقیقی زیر زمین غذائی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جہاں کچھ مخلوقات ایک دوسرے کی خوراک بنتی ہیں جبکہ بعض ممکنہ طور پر طفیلی زندگی گزارتی ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے آئی ایس ایم ای جرنل میں شائع کی گئی ہے۔